بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
زبان سے الفاظ ادا کیے بغیر دل میں طلاق کو شرط پر معلق کرنا
سوال
اگر کسی نے دل میں قسم کھائی کہ اگرمیں نے فلاں کام کیا تو میری ہونے والی بیوی (مراد اپنی منگیتر تھی) کو ایک طلاق ، پھر وہ کام کرڈالا، پھر دوبارہ یہی شرط لگائی کہ اگر فلاں کام کیا تو میری ہونے والی بیوی کو دوسری طلاق ما قبل کی طرح (کیونکہ زید کے ذہن کے مطابق پہلی مرتبہ شرط ٹوٹنے کی وجہ سے ایک طلاق تو واقع ہوگئی ہے ) اب مندرجہ ذیل سوالات ہیں ۔1۔مندرجہ بالا صورت میں اگر حیلہ کی طور پر منگیتر سے قبل کسی دوسری عورت سے نکاح کی تو اسکو یہ طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟ 2۔ یہ دونوں طلاق نکاح قبول کرنے کے بعد ایک ہی دفعہ واقع ہوں گے یا ایک طلاق سے بیوی بائنہ ہو جائیگی اور دوسری طلاق کے وقوع کیلئے الگ مجلس میں قبول کرنا پڑےگا ؟
جواب
طلاق کے واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ طلاق کے الفاظ زبان سے ادا کیے جائیں یا تحریر کیے جائیں ، اگر کوئی صرف دل میں طلاق کے الفاظ سوچے یا طلاق کا ارادہ کرے اور زبان سے طلاق کے الفاظ نہ کہے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص دل میں تعلیق طلاق کے الفاظ کا ارادہ کرے کہ "اگر میں نے فلاں کام کیا تو میری ہونے والی بیوی کو طلاق " اور ان الفاظ پر زبان سے تلفظ نہ کیا ہو تو ایسی صورت میں طلاق شرط کے ساتھ معلق نہ ہوگی ،لہذا اس کے بعد اس کام کو کرنے سے اس کی ہونے والی بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی۔
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله تجاوز لأمتي ما حدثت به أنفسها ما لم يتكلموا أو يعملوا به.(صحيح مسلم، كتاب الايمان، باب تجاوز الله عن حديث النفس والخواطر بالقلب اذا لم تستقر، رقم الحديث:127، ج:1، ص:81)
والطلاق والاستثناء واليمين والنذر والإسلام والإيمان حتى لو أجرى الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع.(حاشية الطحطاوي على مراقى الفلاح، كتاب الصلاة، باب شروط الصلوة و اركانها، ص:219)
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، ركن الطلاق، ج:3، ص:230)