بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
طلبہ سے لیا گیا مالی جرمانہ ویلفیئر ٹرسٹ میں جمع کرنا
سوال
کیا طلبہ سے لیا گیا مالی جرمانہ ویلفیئر ٹرسٹ میں جمع کرسکتے ہیں؟
جواب
فقہاےاحناف میں سے امام ابو یوسف سےتعزیر بالمال کا جواز منقول ہےاور موجودہ حالات کا تقاضہ بھی یہی ہےکہ بعض انتظامی امور میں مالی جرمانہ مقرر کیا جائے،کیونکہ ہر مجرم کو بدنی سزا دینے سے لوگ مشقت میں پڑ جائیں گے جو تنفیر کا سبب بنے گا،اور بسا اوقت مالی سزا بدنی سزا سے زیادہ کار آمد ثابت ہوسكتی ہے، لہذا موجودہ حالات میں امام ابو یوسف کے قول سے استفادہ کرتے ہوئے جواز کی گنجائش دینا مناسب ہے، علامہ ابن عابدین نےبزازیہ سے نقل کیا ہے کہ امام تعزیر میں مال لے سکتا ہے لیکن خود استعمال نہیں کرسکتا بلکہ مجرم کی توبہ اور اصلاح کے بعد اس کو واپس لوٹا دے گا،اور ایک قول یہ بھی نقل کیاہے کہ امام اگر مجرم کی توبہ سے نا امید ہوجائے تو خیر کے کام میں اس کو خرچ کرے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگرتادیب کی نیت سے طلبہ سے مالی جرمانہ وصول کیا جائےتو شرعا یہ جائز ہے،البتہ لینے والا خود اس کو استعمال نہیں کرسکتا بلکہ بچوں کی اصلاح کے بعدان کو واپس لوٹا دے ،لیکن جرمانہ کی واپسی کی وجہ سےاگر جرم کا سد باب مشکل ہو تو ایسی صورت میں اس رقم کو ویلفیئرٹرسٹ میں جمع کرنے کی گنجائش ہے۔
يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك، ومن قال: إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا وليس بسهل دعوى نسخها.وفعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته صلى الله عليه وسلم مبطل لدعوى نسخها، والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ولا إجماع يصحح دعواهم إلا أن يقول أحدهم: مذهب أصحابنا لا يجوز، فمذهب أصحابه عنده عياء على القبول والرد. (معين الحكام، ص:195)
وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى.(ردالمحتار علي الدرالمختار، كتاب الحدود، باب التعزير،، مطلب في التعزير باخذالمال، ج:4، ص:61)