بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
مروجہ حوالے میں قبضہ کا حکم
سوال
ہمارا کاروبار باہر ممالک کے ساتھ ہے ،جیسے چائنا ، جاپان اوردبئی، تو ہمیںT.T (telegraphic transfer)کی ضرورت ہوتی ہے یعنی currency exchange ، جسے ہم یہاں کسی کو حوالہ کر تے ہیں اور وہ ہماری کمپنی والے کو چائنا یا جاپان میں کرنسی کے ساتھ دیا ہوا رقم حوالہ کرتے ہیں ۔ کبھی کبھار ہمیں جب حوالہ کرنا ہوتا ہے یعنی اگرپاکستان میں کوئی حوالے والا ہو ،تو چونکہ ہم پیسے ہمیشہ ایڈوانس میں رکھے ہوئے ہوتے ہیں اس لیے کہ ان کا کاروبار اسی طرح کیش میں چلتا ہے،لیکن کبھی ہم قرض کا سودا کر لیتے ہیں مثلا 50 لاکھ ، یا ایک کڑور کا ۔لہذا وہ ہمارا TT کر لیتا ہے اور ہم ایک ہفتے بعد اس کو رقم دیتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس cash کیش ہر وقت موجود نہیں ہوتا ہے ۔تو کیا اس طرح کا قرض جائز ہے یا نہیں ؟ اور میں نے سنا ہے کہ حوالہ میں قبضہ ہونا ضروری ہے تو اب یہ قبضہ کس طرح کا ہونا چاہیے، قبضے کا اعتبار حوالے والے کے ساتھ ہوگایا کمپنی کے ساتھ ۔ اس قبضے کا جائز اور صحیح طریقہ بتا دیں ۔
جواب
مروجہ کرنسی ثمن خلقی نہیں بلکہ ثمن عرفی ہے اس لئے ایک ملک کی کرنسی کا دوسرے ملک کی کرنسی سے تبادلہ کرتے وقت مجلس عقد میں دونوں کرنسیوں پر قبضہ ضروری نہیں، البتہ کسی ایک کرنسی پر قبضہ ضروری ہے تاکہ ادھار کے بدلہ ادھار کی بیع لازم نہ آئے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی دوسرے ملک میں کسی کو ادائیگی کرنے کے لیے پاکستان میں کسی سے کہے کہ میری جگہ ادائیگی کرو اور میں پاکستانی روپیہ میں دے دوں گا تو یہ دراصل دو عقد ہیں۔ایک اس ملک کی کرنسی کا پاکستانی کرنسی سے تبادلہ اور دوسرا اس کرنسی کو مطلوبہ جگہ پر پہنچانا۔اس پہلے عقد میں چونکہ مجلسِ عقد میں کم از کم ایک کرنسی پر قبضہ ضروری ہے اس وجہ سے اگر پاکستانی روپیہ اسی وقت نہ دیا جائے اور وہ دوسری کرنسی بھی مطلوبہ شخص کو اس مجلس میں نہ پہنچے تو یہ معاملہ جائز نہ ہوگا۔
"عن عطاء بن أبي رباح أن عبد الله بن الزبير كان يأخذ من قوم بمكة دراهم ، ثم يكتب بها إلى مصعب بن الزبير بالعراق فيأخذونها منه، فسئل ابن عباس عن ذلك فلم ير به بأسا، فقيل له: إن أخذوا أفضل من دراهمهم، قال:" لا بأس إذا أخذوا بوزن دراهمهم."(السنن الكبرى للبيهقي، کتاب البيوع، باب ماجاء في السفاتيج، ج:5، ص:576)
(باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز)وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز.(تنوير الأبصار مع الدر المختار،باب الربا،ج:7، ص:414)
لا بد من قبض أحدهما ليخرج العقد عن الكالىء بالكالىء. (الهداية، كتاب البيع، مسائل منثورة، ج:3،ص:111)