بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بہو کا سسر کو نہلانا اور صفائی کرنا


سوال

 ایک شخص کے سات بیٹے ہیں  اور سب کی شادی ہوئی ہے،اس کی بیوی بھی زندہ ہے  ۔اس کے باوجود زید کی خدمت اس کی بہو کر رہی ہے۔اور خدمت بھی یہ  کہ اسے نہلانا اور صفائی کرنا وغیرہ ۔کیا سسر کی اس طرح خدمت کرنا بہو  کے لیے جائز ہے؟اور اگر والد اس درجہ تک پہنچ جائے تو اس کی خدمت کون کرے گا ؟کیا نہلانے کی خدمت اس کے بیٹے کرسکتے ہیں ؟

جواب

اگر کسی شخص کو اس طرح عذر پیش آئے کہ خود وضو پر قادر نہ ہوتوو ہ دوسرے سے مدد حاصل کرسکتا ہے،تاہم  غسل ،استنجاءاور صفائی میں مرد کا اپنی بیوی اور عورت کااپنے شوہر کے علاوہ کسی اور سے مدد لینا جائز نہیں۔

 صورت مسئولہ میں اگر واقعی بیوی موجود ہو اوربیٹے بھی موجود ہوں  تو بہو کے لئے جائز نہیں  کہ وہ سسر کو غسل  کرائے۔ بیوی یہ خدمت کرےیا وہ نہ کر سکےتو بیٹے کریں لیکن ستر کے مواضع کو نہ دیکھیں۔

 

"يحلّ للرجل أن ينظر من الرجل الأجنبي إلى سائر جسده الا ما بين السرّة والركبة إلا عند الضرورة، فلا بأس أن ينظر الرجل إلى موضع الختان ليختنه ويداويه."(بدائع الصنائع، كتاب الاستحسان، ج:6، ص:497)

"الرجل المريض إذا لم يكن له امرأة ولا أمة، وله ابن أو أخ و هو لا يقدر على الوضوء،فإنه يوضئه ابنه، أو أخوه غير الاستنجاء؛فإنه لا يمس فرجه. وسقط عنه الاستنجاء."(الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة، الفصل السابع في الاستنجاء، ج:1، ص:105)            


فتویٰ نمبر : 6131/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور