بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سنت کے بعد دعا مانگنا


سوال

کیاسنت کے بعد دعا مانگنے والے کو مطلقاً بدعتی کہا جا سکتا ہے؟

جواب

قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں دعا کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے ۔دعا کرنا ایک مستحب عمل ہے البتہ سنتوں اور نفلوں کے بعد اجتماعی ہیئت بنا کر دعا کرنا احادیث مبارکہ،صحابہ کرام اور سلف صالحین سے ثابت نہیں، اگر امام کے ساتھ مل کراس کا التزام کیا جائے اور اس کو ضروری سمجھا جائےتو یہ بدعت کے زمرے میں داخل ہوجاتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق سنتوں کےبعد اگر اجتماعی طور پر دعا مانگی جائے اور کسی کو پابند نہ کرایا جائے،نہ اس کا التزام کیا جائےاور نہ اس کو ضروری سمجھا جائےتب اس کی گنجائش ہے، البتہ اگر اس کو ضروری سمجھا جائےاوراس کا التزام کیاجائےتو اس صورت میں یہ بدعت شمار ہو گا۔ البتہ انفرادی طور پر اگر کوئی سنن ونوافل کے بعد دعا کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اس میں حرج نہیں۔

                 

"أن ‌من ‌أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف ‌من ‌أصر على بدعة أو منكر؟"(مرقاة المفاتيح،ج:2،ص:755)

"ورحم اﷲ طائفة من المبتدعة في بعض أقطار الهند حیث واظبوا علی أن الإمام ومن معه یقومون بعد المکتوبة بعد قرائتهم اللهم أنت السلام و منك السلام الخ ثم إذا فرغوا من فعل السنن والنوافل یدعوالإمام عقب الفاتحة جهراً بدعاء مرةً ثانيةً والمقتدون یؤمنون علی ذلك وقدجری العمل منهم بذلك علی سبیل الالتزام والدوام حتی أن بعض العوام اعتقدوا أن الدعاء بعد السنن والنوافل باجتماع الإمام والمأمومین ضروري واجب حتی أنهم إذا وجدوا من الإمام تاخیراً لأجل اشتغاله بطویل السنن والنوافل اعترضوا علیه قائلین: إنا منتظرون للدعاء ثانیاً وهو یطیل صلاته وحتی أن متولي المساجد یجبرون الإمام الموظف علی ترویج هذا الدعاء المذکور بعد السنن والنوافل علی سبیل الالتزام، ومن لم یرض بذلك یعزلونه عن الإمامة و یطعنونه و لایصلون خلف من لایصنع بمثل صنیعهم، وأیم اﷲ! أن هذا أمر محدث في الدین … و أیضاً ففي ذلك من الحرج ما لایخفی وأیضاً فقد مرّ أن المندوب ینقلب مکروهاً إذا رفع عن رتبته لأن التیمن مستحب في کل شيء من أمور العبادات لکن لماخشی ابن مسعود أن یعتقدوا وجوبه أشار إلی کراهته. فکیف بمن أصرّ علی بدعة أومنکر؟… کان ذلك بدعة في الدین محرمة."(إعلاءالسنن،ج:3،ص:205)


فتویٰ نمبر : 6141/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور