بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
والدین سے پانی مانگنا
سوال
بعض حضرات کہتے ہیں کہ پانی پلانے کا ثواب بہت زیادہ ہے،انسان اپنے والدین سے بھی پانی مانگ سکتا ہے،والدین سےپانی مانگناکیساہے جبکہ بندہ خودتندرست ہو ؟
جواب
اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین کا ادب واحترام کرنا انسان کی بنیادی ذمہ داری ہےاوروالدین کے ساتھ خدام جیسا سلوک اوررویہ حرام اورناجائزہے،رسول اللہﷺ نےقیامت کی نشانیوں میں سےایک نشانی یہ بیان کی ہے کہ ' أن تلدالأمة ربتها '(والدہ سے خادمہ جیسا سلوک ہو)،تاہم معاشرتی طور پراگراولاداور والدین میں ایسا تعلق ہوکہ اسکی بنیاد پراولاد کاان سے کوئی چیزطلب کرنا والدین محبت کا مظہر سمجھتے ہوں تو ایسی صورت میں ان سے پانی مانگنےکی گنجائش ہے،البتہ جہاں اس کو بےادبی سمجھاجائے یا والدین بوڑھےاور کمزورہوں تو پھران سے پانی طلب کرنا مناسب نہیں۔
قال الله تعالی:﴿ وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَافَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا﴾ (سورة بنی اسرائیل: 23)
عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أصبح مطيعا في والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن كان واحدا فواحدا ومن أمسى عاصيا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار وإن كان واحدا فواحدا قال الرجل وإن ظلماه؟، قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه.(شعب الایمان:ج:10،ص:308)