بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
رمضان کے قضا روزے میں بیوی کے ساتھ ہمبستری کرنا
سوال
اگر کوئی عورت رمضان کے قضا روزے رکھ رہی ہو اور اسی حالت میں شوہر اس کے ساتھ ہمبستری کرے تو کیا اس پر صرف قضا لازم ہو گی یا کفارہ بھی ؟
جواب
ماہ رمضان میں روزہ رکھ کر توڑنے کی صورت میں قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہوتا ہے،البتہ باقی مہینوں میں روزہ رکھنے کے بعد توڑنے کی صورت میں صرف قضا لازم ہوتی ہے، کفارہ لازم نہیں ہوتا۔چاہے نفلی روزہ ہو یا قضائے رمضان کا روزہ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون پر صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔
(أو أفسد غير صوم رمضان أداء) لاختصاصها -بهتك رمضان۔۔۔(قوله: أو أفسد) أي ولو بأكل أو جماع (قوله: غير صوم رمضان) صفة لموصوف محذوف دل عليه المقام أي صوما غير صوم رمضان فلا يشمل ما لو أفسد صلاة أو حجا وعبارة الكنز صوم غير رمضان وهي أولى أفاده ح (قوله: أداء) حال من صوم وقيد به لإفادة نفي الكفارة بإفساد قضاء رمضان لا لنفي القضاء أيضا بإفساده (قوله: لاختصاصها) أي الكفارة وهو علة للتقييد بالغيرية وبالأداء (وقوله: بهتك رمضان) : أي بخرق حرمة شهر رمضان فلا تجب بإفساد قضائه أو إفساد صوم غيره؛ لأن الإفطار في رمضان أبلغ في الجناية فلا يلحق به غيره لورودها فيه على خلاف القياس.‘‘( الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2ص:404)