بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کپڑوں کی نمائش کے لئے دکان میں بغیر سر کے مجسمہ رکھنا


سوال

کپڑوں کی دکان میں جو مجسمے کپڑوں کے دکھانے کے لئے لگے ہوتے  ہیں تو اگر یہ بغیر سر کے ہوں تو کیااس کو دکان میں رکھنا جائز ہو گا؟

جواب

ذی روح کا مجسمہ حرام تب ہوتا ہے  جب اس کا سرر سمیت پورا جسم یا صرف سر موجود ہو، کیونکہ سر کی موجودگی میں اسے عبادت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر سر  کو مجسمہ  میں شامل نہ کیا جائے تو ایسی صورت میں  عبادت کا تصور ختم ہو جاتا ہے  ، لہذا اس کےاستعمال  کی گنجائش ہوتی ہے،بشرطیکہ اس میں فحاشی کا عنصر بھی نہ ہو ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق دکان میں جو مجسمے بغیر سر کے کپڑوں کی نمائش کے لئے لگائے جاتے ہیں ، اس کے رکھنے کی گنجائش ہے، البتہ عورت کی شکل وصورت کے مجسمہ میں اگر دیگر اعضاء کو نامناسب طرز پر بنایا گیا ہواور اسے چست لباس پہنایا گیا ہو تو اس کا استعمال بھی کراہت سے خالی نہیں۔

 

ولو كانت الصورة صغيرة بحيث لا تبدو للناظر لا يكره لأن الصغار جدا لا تعبد "وإذا كان التمثال مقطوع الرأس "أي ممحو الرأس" فليس بتمثال" لأنه لا يعبد بدون الرأس.(الهداية في شرح بداية المبتدي كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1،ص:145)


فتویٰ نمبر : 6136/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور