بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نمازی کا سلام پھیرنے کے علاوہ اپنے کسی فعل سے نماز توڑنا


سوال

 

ایک شخص جماعت کی نماز میں شریک ہے ،تشہد کے بقدر بیٹھنے کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے اسے حدث لاحق ہوجائے تو کیا حکم ہے؟

ایک صاحب کا کہنا ہے کہ چونکہ اس نے تشہد کی مقدار ادا کرلی ہے اس لیے نماز ہوگئی،کیونکہ سلام پھیرنے کا عمل فرض یا واجب نہیں،بلکہ خروج عن الصلاة بصنع المصلی فرض ہے۔جبکہ میں نے مسئلہ یہ بتایا کہ اگر جماعت کی نماز میں ایسا ہو تو غیر عمد کی صورت میں وضوء وغیرہ کرکے بناء کرلے اور عمداً ایسا کیا ہو تو اعادہ لازم ہوگا،اب ان میں سے کون سی رائے درست ہے؟ آپ سے راہنمائی کی درخواست ہے۔اگر بناء کا حکم ہے تو اس صورت میں بناء کہاں سے کرے گا،یعنی آخری رکعت دوبارہ پڑھ کر سلام پھیرے گا یا صرف تشہد پڑھ کر سلام پھیرلے؟

جواب

سلام کے ذریعے نماز سے نکلنا واجب ہے،لہذا جو شخص سلام پھیرے بغیر اپنے اختیار سے نماز کے منافی کسی اور عمل کے ذریعے سے نماز سے نکلے گا، اس کے ذمے اس نماز کا لوٹانا لازم ہوگا۔اور اگر کسی کو قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بقدر بیٹھنے کے بعد حدث لاحق ہوجائے تو بناء  بھی کر سکتا ہے،اور دوبارہ بھی پڑھ سکتا ہے،بناء کی صورت میں وہیں سے نماز شروع کرے گا جہاں اسے حدث لاحق ہوا ہو ،یعنی  اگر تشہد پڑھ لیا ہو تو دوبارہ آکر صرف درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیرے گا۔

 

"(و) اعلم أنه (إن تعمد عملا ينافيها بعد جلوسه قدر التشهد) ولو بعد سبق حدثه (تمت) لتمام فرائضها، نعم تعاد لترك واجب السلام".(رد المحتار علی الدر المختار،ج:1،ص:606)

"من سبقه حدث توضأ وبنى. كذا في الكنز. والرجل والمرأة في حق حكم البناء سواء. كذا في المحيط ولا يعتد بالتي أحدث فيها ولا بد من الإعادة هكذا في الهداية والكافي والاستئناف أفضل. كذا في المتون وهذا في حق الكل عند بعض المشايخ وقيل هذا في حق المنفرد قطعا وأما الإمام والمأموم إن كانا يجدان جماعة فالاستئناف أفضل أيضا وإن كانا لا يجدان فالبناء أفضل صيانة لفضيلة الجماعة وصحح هذا في الفتاوى كذا في الجوهرة النيرة".(الفتاوی الهندية،ج:1،ص:93)


فتویٰ نمبر : 10344/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور