بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
چار بھائیوں اور تین بہنوں میں تقسیم میراث
سوال
ایک عورت وفات پائی ،اس کے ورثا ءمیں چار بھائی(خورشید علی،حیدر علی،اسفندیار علی ،احمد علی) اور تین بہنیں(زیتون بی بی،رضیہ،خالدہ) ہیں جبکہ مرحومہ کے بچے نہیں ہیں۔مرحومہ کی جائیداد بھائیوں کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟ کیا صرف بھائیوں کو اس کی میراث ملے گی یا جو شادی شدہ بہنیں ہیں ان کو بھی ملے گی اور کیا اس کے شوہر کو بھی اس میں حصہ ملے گا جب کہ وہ اس سے پہلے فوت ہوا ہے ؟
جواب
میـــ(مہتاب بی بی)ــــــــــــــــــــــــــــــ(11)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بھائی بھائی بھائی بھائی بہن بہن بہن
(خورشید علی) (حیدر علی) (اسفندیار علی) (احمد علی) (زیتون بی بی) (رضیہ) (خالدہ)
2 2 2 2 1 1 1
بشرط صدق وثبوت اگر مرحومہ کے مذکورہ بالا ورثاء کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحومہ کا ترکہ گیارہ(11) حصوں میں تقسیم ہوگا۔اس میں سےہر بھائی کو 2/11 حصے جبکہ بہنوں میں سے ہر ایک1/11 حصہ ملے گا۔جبکہ مرحومہ کا شوہر اس سے پہلے فوت ہوا ہے، اس لیے میراث میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
قال الله تعالى:﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾.(النساء:176)