بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مسبوق کا بھول کر امام کے ساتھ سلام پھیرنا
سوال
اگر کوئی مسبوق بھول کر امام کے ساتھ ایک طرف سلام پھیر لے پھر اسے یاد آجائے کہ وہ مسبوق ہے ،چنانچہ وہ کھڑا ہوجا ئے اور بقیہ نماز پوری کرے ،تو کیا وہ سجدہ سہو کرے گا یا نہیں ؟
جواب
مسبوق کے سہواً سلام پھیرنے کی چار صورتیں ہیں :
پہلی صورت یہ ہے کہ امام کے سلام کے ساتھ متصل ایک سلام پھیرے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مسبوق امام سے پہلے سہواً سلام پھیرے اور دوسرا سلام نہ پھیرے۔ان دونوں صورتوں میں مسبوق پر سجدہ سہو واجب نہیں ۔تیسری صورت یہ ہے کہ مسبوق امام کے سلام کے بعد سہواًایک طرف سلام پھیرے اس صورت میں سجدہ سہو لازم ہے ۔چوتھی صورت یہ ہے کہ مسبوق دونوں سلام پھیرے ایسی صورت میں چونکہ بہرحال اس کا دوسرا سلام امام کے پہلے سلام کے بعد ہوگا اس لیے اس صورت میں بھی سجدہ سہو واجب ہوگا۔یہ ساری تفصیل اس وقت ہے جب سہواً سلام پھیرے چنانچہ اگر قصداً سلام پھیرے تو نماز فاسد ہوکر اعادہ ضروری ہوگا ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر مسبوق نے امام کےسلام کے ساتھ متصل سلام پھیرا ہو یا امام سے پہلے سہواً ایک طرف سلام پھیرا ہو تو اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ۔ البتہ اگر مسبوق نے بھول کر امام کے بعد ایک طرف یا دونوں طرف سلام پھیرا ہو تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا۔
قوله (ولو سلم ساهيا) قيد به لأنه لو سلم مع الإمام على ظن أنه معه فهو سلام عمد فتفسد كما في البحر عن الظهيرية قوله (لزمه السهو) لأنه منفرد في هذه الحالة ح قوله (وإلا لا) أي وإن سلم معه أو قبله لا يلزمه لأنه مقتد في هاتين الحالتين ح وفي شرح المنية عن المحيط إن سلم في الأولى مقارنا لسلامه فلا سهو عليه لأنه مقتد به وبعده يلزم لأنه منفرد ا هـ ثم قال فعلى هذا يراد بالمعية حقيقتها وهو نادر الوقوع.(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلوة، باب الإمامة، ج:2، ص:350)