بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
والد کے ساتھ کاروبار میں کام کرنے والے بھائیوں پر قربانی کا حکم
سوال
ہم تین بھائی ہیں، تینوں شادی شدہ ہیں، اور ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، ہمارا "family business "ہے، اس میں ہم سب بھائی والد صاحب کے ساتھ کام کرتےہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم تینوں بھائیوں پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے قربانی ہر اس مسلمان پر واجب ہوتی ہے جو عاقل، بالغ، مقیم ہو اورقربانی کے ایام میں وہ صاحب نصاب ہو، یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا چاندی کے نصاب کے بقدر نقدی یا ضرورت سے زائد سامان موجود ہو۔
صورتِ مسئولہ میں اگر تین بھائی والد صاحب کے ساتھ اس کے کاروبار میں کام کررہے ہوں تو وه والد کے ساتھ معاونین اور مددگار شمار ہوں گے، چنانچہ ساری کمائی والد کی شمار ہوگی، اور قربانی و زکوۃ وغیرہ اسی پر لازم ہوگی۔ البتہ اگر ان بھائیوں میں سے کسی کی ذاتی ملکیت میں اتنا مال موجود ہوکہ جس سے وہ صاحب نصاب شمار ہو، تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔
وأما شرائط الوجوب منها اليسار، وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكوية والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه و متاع مسكنه، ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها .(الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب الأول، ج:5، ص:292)
إذا عمل رجل في صنعة واحدة هو و ابنه الذي كان في عياله فجميع الكسب لذالك الرجل وولده يعد معينا له۔(شرح المجلة لسليم رستم باز، كتاب الشركة، الباب السادس في شركة العقد، الفصل السادس في شركة العنان، ألمادة:1398، ص:741)