بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دورانِ نماز عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں دعا مانگنا


سوال

میں نے کسی سے سنا تھا کہ نماز کے دوران رکوع و سجود اور قومہ و جلسہ کی حالت میں عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں اپنی کسی بھی ضرورت کے لیے دعا مانگنا جائز ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نماز کے دوران عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں دعا مانگنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص نفل نماز پڑھ رہا ہویا فرض نمازانفراداً پڑھ رہاہویا امام کے پیچھے ہو اوراس کو رکوع وسجود اور قومہ وجلسہ  کی حالت میں یا التحیات اور درود شریف پڑھ لینےکے بعد اتنا موقع مل رہا ہو کہ وہ دعائیں مانگ سکے اور وہ دعا مانگنا چاہے تو قرآن وحدیث سےثابت دعائیں مانگ سکتا ہے۔ البتہ اگر قرآن وحدیث سے ثابت شدہ دعاؤں کے علاوہ کوئی اور دعا مانگنا چاہے تو اس کے جائز ہونے کے لیے دو شرائط ہیں: پہلی شرط یہ ہے کہ وہ دعا عربی زبان میں مانگی جائے اور دوسری شرط یہ ہے کہ دعا میں ایسی چیز مانگی جائے جو مخلوق سے نہ مانگی جاسکتی ہو، مثلاً بیماری سے شفا حاصل ہونے کی دعا، گناہوں سے بچنے کی دعا وغیرہ۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق نماز کے دوران عربی زبان  کے علاوہ کسی اور زبان میں دعا مانگنا جائز نہیں۔

 

(قوله ودعا بما يشبه ألفاظ القرآن والسنة لا كلام الناس) أي بالدعاء الموجود في القرآن ولم يرد حقيقة المشابهة إذ القرآن معجز لا يشابهه شيء ولكن أطلقها لإرادته نفس الدعاء لا قراءة القرآن مثل {ربنا لا تؤاخذنا} [البقرة: 286] {ربنا لا تزغ قلوبنا} [آل عمران: 8] {رب اغفر لي ولوالدي} [نوح: 28] {ربنا آتنا في الدنيا حسنة} [البقرة: 201] إلى آخر كل من الآيات، وقوله: والسنة، يجوز نصبه عطفا على ألفاظ أي ‌دعا ‌بما ‌يشبه ألفاظ السنة وهي الأدعية المأثورة ومن أحسنها ما في صحيح مسلم "اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات ومن فتنة المسيح الدجال" ويجوز جره عطفا على القرآن أو ما أي ‌دعا ‌بما ‌يشبه ألفاظ السنة أو دعا بالسنة، وقد تقدم أن الدعاء آخرها سنة لحديث ابن مسعود "ثم ليتخير أحدكم من الدعاء أعجبه إليه فيدعو به".(البحر الرائق، كتاب الصلاة، ج:1، ص:349)

(ودعا) بالعربية، وحرم بغيرها نهر لنفسه وأبويه وأستاذه المؤمنين. ويحرم سؤال العافية مدى الدهر، أو خير الدارين ودفع شرهما، أو المستحيلات العادية كنزول المائدة، قيل والشرعية. والحق حرمة الدعاء بالمغفرة للكافر لا لكل المؤمنين كل ذنوبهم بحر (بالأدعية المذكورة في القرآن والسنة. لا بما يشبه كلام الناس) اضطرب فيه كلامهم ولا سيما المصنف؛ والمختار كما قاله الحلبي أن ما هو في القرآن أو في الحديث لا يفسد،وما ليس في أحدهما إن استحال طلبه من الخلق لا يفسد وإلا يفسد لو قبل قدر التشهد، وإلا تتم به ما لم يتذكر سجدة فلا تفسد بسؤال المغفرة مطلقا ولو لعمي أو لعمرو، وكذا الرزق ما لم يقيده بمال ونحوه لاستعماله في العباد مجازا.(الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الصلاة، ج:1، ص:521، 524)


فتویٰ نمبر : 10332/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور