بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
آپس میں تفاسیر کےحاصل مطالعہ کا مذاکرہ کرنا
سوال
میں 15 سال سے ایک پرائیویٹ ادارے میں بطورِ سائنس ٹیچر اپنے خدمات سر انجام دے رہا ہوں دو ہفتے پہلے ڈائریکٹر صاحب نے تمام ٹیچرز کے ساتھ میٹنگ کی اور ٹیچرز کو اس بات کا پابند بنا یا کہ آپ تمام ٹیچرز کو مختلف تفاسیر دیے جائیں گے اور آپ میں سے ہرٹیچرکو نماز جمعہ کے بعد گروپ شکل میں ترجمہ وتفسیر اور پھر عملی نکات بیان کرکے لکھنے پڑیں گے ،اب آپ حضرات سے پوچھنا یہ تھا کہ قرآن مجید ایک مقدس کتاب ہے جہاں میرے ناظرہ قرآن میں کمزوری ہے وہاں ترجمہ اور پھر تفسیر سے تفصیل کرانا کیسا ہے ؟ بعض اوقات یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ٹیچرز جو تفسیر کے اندر موجود ہوتا ہے اس سے ہٹ کر تفصیل کر دیتے ہیں۔
جواب
ہر مسلمان کے لیے قرآن کریم کو ترجمہ وتفسیر کے ساتھ سیکھنا نہایت اہم اور ضروری ہے کیونکہ اس کو سیکھے بغیر اس پر کما حقہ عمل ممکن نہیں اور نہ ہی اس میں تفکر وتدبر کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم قرآن فہمی کے لیے اہل سنت والجماعت کی مستند تفاسیر کا مطالعہ کرنا ضروری ہے کیونکہ اہل باطل کی تفاسیر دیکھنے سے فائدہ کی بجائے نقصان کا قوی اندیشہ ہے ،لہذااگر کوئی قرآن مجید کو سمجھنے کی خواہش رکھتا ہو تو اسے چاہیے کسی مستند عالمِ دین کی خدمات حاصل کرکے ا س کی نگرانی میں سمجھے، محض اپنے مطالعہ پر اعتماد نہ کرے، کیونکہ رطب و یابس میں فرق کرنا ہر شخص کے لیے ممکن نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق چند افراد کا مل کر تفاسیر کا مطالعہ کرنے کے بعد آپس میں حاصل مطالعہ کا تکرار ومذاکرہ کرنا ایک اچھا اورنیک اقدام ہے تاہم اس میں چند باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
1۔ صرف معتمد اور مستند تفاسیر کا مطالعہ کیا جائے ،جن کی فہرست کسی عالم دین سے حاصل کی جائے۔
2۔ تفاسیر کو کسی معتبر عالم کی رہنمائی میں مطالعہ کیا جائے، اس طور پر کہ جہاں جو بات سمجھ میں نہ آئے، خود سے فیصلہ کرنے کی بجائے ان سے رجوع کیا جائے ۔
3۔حاصل مطالعہ بیا ن کرتےوقت رائےزنی اور خود سے لب کشائی کرنے سے احتراز کیا جائے،جو مطالعہ کیا ہو، وہی جوں کا توں بیان کیا جائے،تاکہ کہیں لاعلمی میں اللہ تعالی کے کلام کی غلط تفسیروتوضیح نہ کر بیٹھے۔
4۔اپنی مجلس میں کسی جید عالم کو شریک رکھنے کا التزام کیا جائے تاکہ اگر کسی سے کچھ غلطی واقع ہو جائے تو اس کی نشاندہی ہو اور فوری اصلاح ہو سکے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ، فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.(سنن الترمذي، كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في الذي يفسر القرآن برأيه، رقم الحديث:2951)
"وقد قال أبو عبد الرحمن السلمي: حدثنا الذين كانوا يقرؤون القرآن كعثمان بن عفان وعبد الله بن مسعود وغيرهما أنهم كانوا إذا تعلموا من النبي صلى الله عليه وسلم عشر آيات لم يتجاوزوها حتى يعلموا ما فيها من العلم والعمل قالوا: فتعلمنا القرآن والعلم والعمل جميعا ولهذا كانوا يبقون مدة في حفظ السورة وقال أنس: كان الرجل إذا قرأ البقرة وآل عمران جد في أعيننا، رواه أحمد في مسنده، وأقام ابن عمر على حفظ البقرة ثمان سنين أخرجه في الموطأ".(الإتقان في علوم القرآن، النوع الثاني والسبعون في معرفة شروط المفسر،وآدابه، ج:4، ص:202)