بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حج کی وصیت کے بغیر مرحوم باپ کی طرف سے حج بدل کرنا


سوال

میرے والد صاحب  سکول میں پرنسپل تھے، ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک زندہ رہے مگر فرضی حج ادا نہیں کیا، تاہم عمرہ ادا کیا تھا۔ وفات پانے سے پہلے ہم میں سے کسی کو وصیت نہیں کی کہ میری طرف سے حج ادا کرو کیونکہ اس کو وصیت کا موقع نہیں ملا، وہ اچانک بیمار ہو کر وفات پا گئے۔ اگر ہم میں سے کوئی ایک ان کی طرف سے حج کرے تو کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہوگا؟

جواب

اگر کوئی شخص باوجود استظاعت کےاپنی زندگی میں حج ادا نہ کرے  اور نہ وفات سے پہلے وصیت کرے  تو ایسا شخص گناہ گار ہوگا، تاہم انتقال  کے بعد اگر ورثا اس کی طرف سے حج ادا کریں تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اس کی طرف سے حج ادا ہوجائے گا اور مرحوم مؤاخذہ سے بری ہوگا۔ لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر ورثا میں سے کوئی مرحوم  کی طرف سے حج بدل ادا کرے تو اللہ کی ذات سے  امید ہے کہ وہ  اس کی طرف سے ادا ہو جائے گا اور وہ مؤاخذہ سے بری ہوگا۔

من ‌عليه ‌الحج ‌إذا ‌مات ‌قبل ‌أدائه فإن مات عن غير وصية يأثم بلا خلاف وإن أحب الوارث أن يحج عنه حج وأرجو أن يجزئه ذلك إن شاء الله تعالى، كذا ذكر أبو حنيفة رحمه الله تعالى.(الفتاوى الهندية، كتاب المناسك، الباب الخامس عشر:في الوصية بالحج، ج:1، ص:323)


فتویٰ نمبر : 10328/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور