بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مندروں اور گردواروں کی ویڈیو بنانا


سوال

ایک شخص پولیس ملازم ہے۔ اسے چرچ، مندروں اورگردواروں کی سیکورٹی کے پیش نظرویڈیو بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔عبادت گاہوں کی ویڈیو اس غرض سے بناتا ہے کہ یہ ظاہرہوسکےکہ مندرمیں سیکورٹی کے انتظامات تسلی بخش ہیں۔ کیا بتوں کی شرکیہ رسومات کی تصویریا ویڈیوبنانےکی وجہ سے یہ شخص دائرہ اسلام سےخارج ہوجائے گا؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے ہرشخص اپنی جائزذمہ داری نبھانے کا پابند ہے۔ جائز ذمہ داری نبھانےمیں اگرعمومی مصلحت کے پیش نظراس سے کوئی ایسا خلاف شرع عمل سرزد ہوتا ہو،جس کا دوسراکوئی جائز متبادل نہ ہو،تو مفادعامہ کے خاطربقدرضرورت وہ عمل جائز متصور ہوگا۔

صورت  مسؤلہ میں اگر پولیس ملازم چرچ،مندروں اور گردواروں کی ویڈیوسیکورٹی کے پیش نظر بقدرضرورت بناتاہو،اور اس میں کوئی دوسر ی فاسد نیت نہ ہو،تو اس کا یہ عمل    جائز ہےاور اس ارتکاب سے وہ دائرہ اسلام سے بھی خارج  نہیں  ہوتا۔

 

ماأبيح للضرورة يتقدر بقدرها(الأشباه والنظائر لابن نجيم،ص:43)

يغتفر في التوابع مالا يغتفر في غيرها...قد ثبت الشيء ضمنا وحكما ولا يثبت قصدا(شرح المجلة لخالد الأتاسي،مادة:54،ج:1،ص:131)


فتویٰ نمبر : 6191/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور