بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
بارش سے سیراب ہونے والی زمین میں عشر
سوال
ہماری زمینیں بارش سے سیراب ہوتی ہیں، لیکن ہل ان میں ٹریکٹر کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے کافی خرچہ ہوتا ہے۔ کیا ایسی زمینوں میں عشر واجب ہے یا نصف عشر؟
جواب
واضح رہے کہ زمین کی پیداوار میں عشر یا نصف عشر کا دارومدار پانی کی نوعیت پر ہے، اگر زمین بارش یا قدرتی چشموں سے کسی خرچ و مشقت کے بغیر سیراب کی جاتی ہو تو اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہو گا، اور اگر زمین کی سیرابی کے لیے پانی حاصل کرنے میں خرچ یا مشقت ہو، مثلا: ڈول، نہر یا ٹیوب ویل وغیرہ سے سیراب کی جاتی ہو یا پانی قیمت سے حاصل کر کے آب پاشی کی جاتی ہو تو نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہو گا۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ زمین بارش سے سیراب ہوتی ہے، اس وجہ سے ایسی زمین میں پورا عشر واجب ہو گا، اگر چہ ٹریکٹر کے ذریعے اس میں ہل چلایا جائے۔
قال أبو حنيفة رحمه الله في قليل ما أخرجته الأرض وكثيره العشر سواء سقى سيحا أو سقته السماء . . . قال: " وما سقي بغرب أو دالية أو سانية ففيه نصف العشر.( الهداية، كتاب الزكوة، باب زكوة الزروع والثمار، ج:1، ص:217)