بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
قسطوں کی مکمل ادائیگی سے پہلے مبیع میں نقصان آنا
سوال
اگر کوئی شخص قسطوں پر گاڑی خریدے اور قسطوں کی ادائیگی مکمل ہونے سے پہلے ہی خریدنے والے کا بھائی گاڑی ایکسیڈنٹ کرے جس سے گاڑی کو نقصان پہنچے، تو کیا اس نقصان کی ذمہ داری گاڑی بیچنے والے پر عائد ہو گی یا خریدنے والے پر؟
جواب
واضح رہے کہ بیع ایجاب و قبول کے بعد مکمل ہو جاتی ہے اور مبیع بائع کی ملکیت سے نکل کرمشتری کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہے، چاہے بیع نقد ہو یا قسطوں پر، اس کے بعد مبیع کو جو بھی نقصان پہنچے گا وہ مشتری (خریدنے والے)پر ہو گا فروخت کرنے والے پر نہیں۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص کسی سے قسطوں پر گاڑی خریدے اور قسطوں کی ادائیگی مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو جائے، تو اس نقصان کی ذمہ داری مشتری (خریدنے والے)پر ہو گی۔
وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية.(الهداية، كتاب البيوع، ج:3، ص:23)
المبيع إذا هلك في يد البائع قبل أن يقبضه المشتري يكون من مال البائع ولا شيء على المشتري. إذا هلك المبيع بعد القبض هلك من مال المشتري ولا شيء على البائع.(مجلة الأحكام العدلية، الباب الخامس: في بيان المسائل المتعلقة بالتسليم والتسلم، الفصل السادس: فيما يتعلق بسوم الشراء وسوم النظر، ص:59، المادة: 293،294)