بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
مستحق زکوۃ کو دی گئی رقم پر عمرہ کے لیے بھیجنا
سوال
اگر کوئی شخص کسی مستحق کو زکوۃ کی رقم کا مالک بنائے پھر مستحق شخص کا عمرہ کرنے کا ارادہ ہو لیکن اس کے پاس پیسے کم ہوں تو مزکی اس سے وہ رقم لے کر کچھ اپنی طرف سے ہدیہ کی رقم ملاکر اس کو عمرہ پر بھیجوائے،تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا مستحق کو جو زکوۃ کی رقم دی ہے اس سے مزکی کی زکوۃ ادا ہوگئی ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مستحق زکوٰۃ کو مالک بنانا ضروری ہے، مالک بنانے کے بعد پھراس کی مرضی ہے کہ وہ اس رقم کو جس کام میں بھی خرچ کر ے، البتہ اگر مستحق زکوۃ کو مالک نہ بنایا گیا ہو تو مالک بنائے بغیر زکوۃ کی ادائیگی سے ذمہ فارغ نہیں ہوتا۔
صورت مسئولہ میں اگر مستحق کو زکوٰۃ کا مالک بنادیا جائے اور وہ اپنی مرضی سے اس کو عمرہ کے لیے واپس مزکی کو دے تو زکوۃ دینے والے کی زکوۃ ادا ہوجائے گی۔
"ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا ) لا إباحة"۔(الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الزكوة، باب المصرف، ج:3، ص:291)
"وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره لم أره والظاهر نعم"۔(الدر المختار ،کتاب الزکوۃ،باب المصرف ،ج:3، ص:293)
"وقال ابن نجيم: والحيلة۔۔۔أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه، فيكون لصاحب المال ثواب الزكوة، وللفقير ثواب هذه القرب"۔(البحر الرائق، كتاب الزكوة، باب المصرف، ج:2، ص:424)