بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
قسطو ں پر بیچی گئی چیز کی قیمت میں سے کچھ رقم ایڈوانس لینا/ فیصدی منافع کا کل قیمت پر یا ایڈوانس رقم کو منہا کرکے باقی رقم پر حساب لگانا
سوال
اگر کوئی شخص کسی چیز کو خریدنا چاہے، لیکن اس کے پاس پیسے نہ ہوں اور دوسرا شخص اسے کہے کہ جس چیز کی آپ کو ضرورت ہو وہ میں خرید لوں گا، پھر اس چیز کی قیمت پر40 فیصد منافع کے ساتھ قسطوں کے ساتھ آپ پر فروخت کروں گا۔ اور آپ دس ہزار ایڈوانس ادا کریں گے اور باقی رقم قسط وار ادا کریں گے۔ تو سوال یہ ہےکہ قسطوں پر بیچی ہوئی چیز میں کچھ رقم ایڈوانس لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور یہ 40 فیصد منافع کس پر لگایا جائے گا؟ کیا منافع کا حساب کل قیمت پر لگایا جائے گا، یا ایڈوانس (جو 10,000 روپے ہیں) ان کو منہا کرنے کے بعد باقی رقم پر منافع لگایا جائے گا؟
جواب
اپنی مملوکہ چیز دوسرے پر نقد یاادھار بیچنا جائز ہےبشرطیکہ ادھار یا قسطوں کی صورت میں ثمن کی مقدار اور ادائیگی کی مدت معلوم ہو، نیز بیع مرابحہ میں عقد کے وقت جتنی منافع پر بات طے ہوجائے تو اسی منافع کے ساتھ مشتری قیمت ادا کرےگا۔
صورتِ مسئولہ میں بائع کے لیے قسطوں پر بیچی ہوئی چیز میں حسب معاہدہ کچھ رقم ایڈوانس لینا جائز ہے۔ نیز، اگر بائع اور مشتری کے درمیان 40 فیصد منافع کی بات کل قیمت کے اعتبار سے ہوئی ہو تو منافع کا حساب کل قیمت پر لگایا جائے گا۔ اور اگر ان کی بات ایڈوانس رقم منہا کرکے باقی رقم پر منافع لگانے کی بات ہوئی ہو تو ایڈوانس رقم کو منہا کرکے باقی رقم پر 40 فیصد منافع کا حساب لگایا جائے گا، اور منافع کے ساتھ جتنی قیمت بنتی ہے، مشتری وہ حسب معاہدہ قسطوں میں ادا کرے گا۔
عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة» وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود: «حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح» والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما. ( سنن الترمذي،كتاب البيوع ، باب ما جاء في النهي عن بيعتين في بيعة، رقم الحديث: 1231)
المرابحة: نقل ما ملكه بالعقد الأول بالثمن الأول مع زيادة ربح ۔۔۔ لأن للأجل شبها بالمبيع؛ ألا يرى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل۔(الهداية، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية،ج: 3، ص: 56، 58)
يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتاجيل و التقسيط؛لأن جهالته تفضي إلى النزاع.(شرح المجلة لخالد الأتاسي،رقم المادة:236،كتاب البيوع،الفصل الثاني في بيان المسائل المتعلقة بالبيع بالنسيئة والتأجيل،ج:2،ص:167)