بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پرانے قبرستان پر پلازہ بنانا


سوال

ہماراقبرستان  بہت پرانا  ہو چکا ہے ،یہاں  تک  کہ  سارے قبر بوسیدہ ہو چکے ہیں ،تو کیا ہم اس پر پلازہ بنا سکتے ہیں ؟

جواب

اگر قبرستان بہت قدیم ہوا ورغالب گمان ہو کہ دفن ہونے والے اجسام بوسیدہ اور مٹی ہو گئے ہوں گے، اور  قبرستان کی حاجت باقی نہ رہی ہو تو ایسی صورتوں میں اس پر بلڈنگ کی تعمیر و توسیع جائز ہے،اور  اس میں زراعت بھی کر سکتے ہیں، بشرط یہ کہ  یہ مملوکہ  قبرستان ہو،وقف نہ ہو۔

  صورتِ مسئولہ کہ مطابق اگر  قبرستان  مملوکہ  ہو وقف نہ ہو اور اس بات کا یقین ہو کہ قبروں میں دفنائےگئے مردے بالکل مٹی بن چکے ہیں ، اور قبروں  کے نشانات بھی مٹ چکے ہوں، تو  اس قبرستان کی زمین کو ہموار کرکے پلازہ تعمیر کرنا جائز ہے۔لیکن اگر وقف قبرستان ہو تو اس میں ذاتی تعمیر جائز نہیں۔   

 

"و لو بلی الميت وصار ترابًا ‌جاز ‌دفن غيره في قبره و زرعه و البناء عليه ۔(‌‌‌‌الدر المختار وحاشية ابن عابدين ،ج: 2،ص: 233)


فتویٰ نمبر : 6118/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور