بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
عورت کا بچے کے کان میں اذان دینا
سوال
عورت اگر کسی بچے کے کان میں اذان دے تو اعادہ کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟
جواب
عورت کا بچے کے کان میں اذان دینا
عورت اگر کسی بچے کے کان میں اذان دے تو اعادہ کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟
الجواب وباللہ التوفیق
بچے کی پیدائش کے بعد اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا سنت ہے۔ مرد کا اذان دینا افضل اور بہتر ہے، لیکن اگر مرد کی غیرموجودگی میں عورت اذان دے دے تو اذان درست ہو جائے گی، اعادہ کی ضرورت نہیں ،کیونکہ یہ نماز کے لیے اذان دینے کی طرح نہیں ۔اُس میں آواز بلند کرنا مقصود ہوتا ہے جس کی وجہ سے عورت کے لیے مکروہ ہے جب کہ یہاں ایسا نہیں ۔
قال الملا علی القاری:وقال ابن حجر: الأذان الذي يسن لغير الصلاة كالأذان في أذن المولود اليمنى، والإقامة في اليسرى.( مرقاة المفاتیح، كتاب الصلاة، باب الأذان، ج:٢، ص:٥٤٨)
يكره "أذان الجنب" رواية واحدة كإقامته "و" يكره بل لا يصح أذان "صبي لا يعقل" وقيل والذي يعقل أيضا لما روينا "ومجنون" ومعتوه "وسكران" لفسقه وعدم تمييزه بالحقيقية "و أذان "امرأة" لأنها إن خفضت صوتها أخلت بالإعلام وإن رفعته ارتكبت معصية لأنه عورة.( مراقي الفلاح، باب الأذان، ص: ٧٩)