بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

متبنی کے فارم "ب" میں حقیقی با پ کے بجائے پرورش کرنے والے کا نام لکھنا


سوال

ایک شخص نے اپنے دوست کے بچے کی پرورش کی ہے، جو کہ اس کے بچوں کی طرح بچپن سے اس کی تربیت میں ہے،اگر فارم’ ب‘میں اس کے باپ کی جگہ پرورش کرنے والا اپنا  نام لکھ لے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے متبنی بنانے میں کوئی حرج نہیں،لیکن متبنی بنانے سے بچے کو اولاد کا درجہ حاصل نہیں ہوتا، کیوں کہ نسب ایک غیر اختیاری  رشتہ ہے، کسی کے کہنے یا بولنے سے تبدیل نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے متبنی کو حقیقی اولاد کی حیثیت دے کر اپنی طرف منسوب کرنا یا محرم یا وارث بنانا جائز نہیں۔

صورت مسئولہ میں بچے کو  فارم ب میں حقیقی باپ کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے، پرورش کرنے والے کی طرف  منسوب کرنا یا قانوناً اس کو اولاد کا درجہ دینے سے اجتناب لازم ہے ۔


قال الله تعالی:﴿وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ  ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّه﴾.[ الأحزاب : 5،4]

عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام» ۔(صحیح البخاری ، ‌‌باب من ادعى إلى غير أبيه،رقم الحدیث:6766،ج:8،ص:156)


فتویٰ نمبر : 6123/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور