بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پاؤں میں سوجن کی وجہ سے جرابوں پر مسح کرنا


سوال

ایک شخص کے پاؤں میں سوجن ہو،پانی کے استعمال سے تکلیف بڑھ جاتی ہو،اس نے جرابوں پر مسح کر کے نمازیں پڑھی ہوں،اس مسح سے جو نمازیں ادا کی ہوں کیا  وہ درست ہیں یا لوٹانا ضروری ہے؟

جواب

اعضاےوضو پر ایسا زخم ہو کہ اس کا بعض حصہ دھونے سے زخم کو نقصان نہ ہوتا ہوتو جتنا حصہ دھونا ممکن ہو اس کا دھونا ضروری ہےاور زخم والے حصہ پر مسح جائز ہے،البتہ اگر پورے عضو پر زخم ہو یا بعض حصہ دھونے سے بھی زخم کو نقصان ہوتا ہو توایسی صورت میں پورے عضو پر مسح کر لینا بھی جائز ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر پاؤں میں سوجن ہو اور مسح کر لینے سے بھی زخم کو نقصان پہنچتا ہو تو جرابوں پر مسح درست ہے،اس طرح  پڑھی گئی نمازوں کو لوٹانا ضروری نہیں، اور اگرجلد پر مسح کرنا ممکن ہویا سوجن پاؤں کے ایک حصہ (مثلا انگليوں) میں ہو اور باقی پاؤں دھونے سے تکلیف میں اضافہ نہ ہوتا ہو تو باقی پاؤں کا دھونا ضروری ہے اور جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے،لہذا اس صورت میں مسح سے جتنی نمازیں پڑھی ہیں ان کا لوٹانا ضروری ہے۔             

 

إذا كانت زائدة على قدر الجراحة، فإن ضره الحل والغسل مسح الكل تبعا وإلا فلا، بل يغسل ما حول الجراحة ويمسح عليها لا على الخرقة، مالم يضره مسحها فيمسح على الخرقة التي عليها ويغسل حواليها وما تحت الخرقة الزائدة؛ لأن الثابت بالضرورة يتقدر بقدرها۔(رد المحتار علي الدر المختار،كتاب الطهارة،باب المسح علی الخفین،مطلب في نواقض المسح،ج:1،ص:280)


فتویٰ نمبر : 10323/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور