بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
مسجد کے بجائے گھر میں نماز پڑھنا
سوال
اگر کسی شخص کی رہائش مسجد سے دور ہو اور آنے جانے میں تقریباً 20 سے 25 منٹ لگتے ہوں، جس کی وجہ سے زیادہ تر وقت مسجد کو آنے اور جانے میں لگتا ہے۔تو کیا اس کے لیے مسجد کے بجائے گھر میں نماز پڑھنا جائز ہے؟
جواب
احادیث کی روشنی میں مردوں کے لیے مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا ضروری ہے،بلا کسی شرعی عذر کے مسجد کے بجائے گھر میں نماز پڑھنا درست نہیں۔حضور ﷺ نے ایسا کرنے والوں کے بارے میں سخت وعید سنائی ہے ،البتہ بوقت ضرورت کسی عذر کی وجہ سے اگر کھبی کھبار گھر میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا اتفاق ہوجائے تو اس کی گنجائش ہے۔لیکن گھر میں نماز پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہیں ملے گا۔
عن جابر بن عبد الله قال: خلت البقاع حول المسجد، فأراد بنو سلمة أن ينتقلوا إلى قرب المسجد. فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لهم: إنه بلغني أنكم تريدون أن تنتقلوا قرب المسجد قالوا: نعم يا رسول الله، قد أردنا ذلك. فقال: يا بني سلمة، دياركم تكتب آثاركم، دياركم تكتب آثاركم.(صحيح مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، رقم الحديث:665 )
قال: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لقد هممت أن آمر فتيتي فيجمعوا حزما من حطب، ثم آتي قوما يصلون في بيوتهم ليست بهم علة فأحرقها عليهم.(سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب التشديد في ترك الجماعة، رقم الحديث:549)
يمكنه أن يجمع بأهله في بيته... أن الأصح أنه لو جمع بأهله لا يكره وينال فضيلة الجماعة لكن جماعة المسجد أفضل.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب الأذان، ج:1، ص:396)