بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

انگوٹھے پرسیاہی ڈال کر چورمعلوم کرنے والے لوگوں کے پاس جانا


سوال

کسی بندے سے کوئی چیز چوری ہوتی ہے، چور کا پتہ نہیں چلتا، پھر وہ کسی دربار پر جاتا ہے، وہاں ایک پیر رہتا ہے اس کو پورا واقعہ بتاتاہے، وہ پیر چھوٹے بچے کواپنے سامنے  بٹھاتا ہے اس کے  ہاتھ کے انگوٹھے پر سیاہی ڈالتا ہے، پھر اس سے پوچھتا ہے کہ کچھ نظر آیا وہ  بچہ بولتاہے، فلان  بندہ  نظر آرہا  ہے اور فلان فلان چیز چوری کررہا ہے، پھر اس بندے کو پکڑ کر پولیس کو حوالے کیا جاتا ہےاور وہ شخص چوری کا اقرار کرتاہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس پیر یا اس جیسے دوسرے پیروں کے پاس جانا اور ان سے چور کا اس طریقے سے پتہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعتِ مطہرہ میں کسی شخص پر جرم کے ثابت ہونے کے لیے ذاتی اقراریا شہادت کو معیار مقرر کیا گیا ہے، اس لیےچوری کا اثبات مجرم کے  ذاتی اقراریا دوعادل گواہوں کی شہادت سے ہوگا۔ لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق کسی چھوٹے بچے کے انگوٹھے پر سیاہی ڈال کراس کے ذریعے سے چوری معلوم کرنا اورکسی کو چورثابت کرا نا جائز نہیں۔ یہ بالکل بےبنیاد اورغلط ہے، اورشریعت مطہرہ میں اس کا کوئی اعتبار نہیں، اس کی وجہ سے معاشرے میں بد امنی اور بد اعتمادی کو فروغ ملتا ہے، لہذا اس سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾. وفي روح المعاني:لا تتبع ما لا علم لك به من قول أو فعل، ‌وحاصله ‌يرجع إلى النهي عن الحكم بما لا يكون معلوما.(روح المعاني، ج:8، ص:71)


فتویٰ نمبر : 6090/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور