بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پرانے کنویں میں گٹر کا لائن ڈالنا


سوال

ایک شخص کے گھر کے اندر پرانا کنواں ہے،جس میں اگرچہ پانی موجود ہے لیکن اس سے کوئی پانی استعمال نہیں کرتا، اب وہ شخص  وہاں گٹر کا لائن ڈالنا چاہتاہے، سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا ازروئے شریعت جائز ہے یا نہیں؟

جواب

‌ہر انسان کو اپنی ملکیت میں جائز تصرف کرنے کا حق حاصل ہے، لہذا صورتِ مسئولہ کےمطابق اگر کسی شخص کے گھر میں کنواں ہواور  اس کی ضرورت باقی نہ ہو، تواگرچہ اس میں پانی موجود ہو، پھربھی  وہاں گٹر کا لائن ڈالنا جائز ہے۔

 

للمالك ‌أن ‌يتصرف في ملكه أي تصرف شاء سواء كان تصرفا يتعدى ضرره إلى غيره أو لا يتعدى فله أن يبني في ملكه مرحاضا أو حماما أو رحى أو تنورا وله أن يقعد في بنائه حدادا أو قصارا وله أن يحفر في ملكه بئرا أو بالوعة أو ديماسا.(بدائع الصنائع، كتاب الدعوى، باب حكم الملك، ج:6، ص:264)


فتویٰ نمبر : 6089/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور