بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

میت کے ایصال ثواب کےلیے صدقہ کے گوشت کو قبرستان میں پھینکنا


سوال

میت کے ایصال ثواب کے لیے صدقہ کے گوشت کو قبرستان میں  پھینکنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص میت کے ایصال ثواب کےلیےقربانی کرے تو اس کے گوشت کو صحیح مصرف میں استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ مال ضائع نہ ہو، احادیث مبارکہ میں مال کو ضائع کرنے سے منع کیا گیا ہے، نیز اگر کوئی کام  نبی ﷺ کے قول، فعل اور تقریر سے ثابت نہ ہو اور نہ آثار صحابہ کرام ؓ سے ثابت ہو تو اس کو ثواب کی نیت سےکرنا بدعت کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

صورت مسئولہ كے مطابق  اگرکوئی شخص قبرستان میں موجود چرند پرند کو کھلانے کی غرض سے گوشت پھینکتا ہو اور اس کا ایصال ثواب کرتا ہو تو چونکہ اللہ تعالی کی رضا کےلیے چرند پرند کو کھلانا بھی باعث ثواب ہے، اس لیے اس عمل کا ایصال ثواب جائز ہے۔ البتہ اگر کوئی صدقہ کے گوشت کو قبرستان میں پھینکنا  مستقل باعث ثواب سمجھے، تواس میں دو قسم کی خرابیاں ہیں پہلی خرابی مال کو ضائع کرنا ہے جو ایک گناہ کا کام ہے اور دوسرا قبرستان میں گوشت پھینکنے کو باعث ثواب سمجھنا بدعت کے زمرے میں آتا ہے جو کہ ناجائز ہے۔

 

عن المغيرة بن شعبة قال:قال النبي صلى الله عليه وسلم: (إن الله حرم عليكم: عقوق الأمهات ووأد البنات، ومنع وهات. وكره لكم: قيل وقال، وكثرة السؤال، ‌وإضاعة ‌المال). ( الصحیح للبخاری، باب: ما ينهى عن إضاعة المال، رقم الحدیث: 2277، ج: 2، ص: 848)

عن عبدِ الله بنِ عَمْرٍو، قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: "‌الرّاحِمُونَ ‌يَرْحَمُهُمُ ‌الرحمنُ، ارْحَمُوا من في الأرْضِ، يَرْحَمْكُمْ من في السَّمَاءِ، الرَّحِمُ شُجْنَةٌ من الرحمنِ، فمن وصَلَهَا وصَلَهُ اللهُ، ومن قَطَعَهَا قَطَعَهُ الله".(سنن الترمذی، باب ما جاء في رحمة الناس، رقم الحدیث: 2037)

 (قوله ومبتدع) أي صاحب بدعة وهي ‌ما ‌أحدث ‌على ‌خلاف ‌الحق ‌المتلقى ‌عن ‌رسول ‌الله صلى الله عليه وسلم من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة أو استحسان وجعله دينا قويما وصراطا مستقيما۔ ( درر الحکام شرح غرر الحکام، کتاب الصلاة،  باب صفة الصلاة، ج: 1، ص: 85)

من ضحى عن الميت ‌يصنع ‌كما ‌يصنع ‌في أضحية نفسه من التصدق والأكل، والأجر للميت، والملك للذابح، قال الصدر: والمختار أنه إن بأمر الميت لا يأكل منها وإلا يأكل بزازية ۔۔۔ (قوله وعن ميت) أي لو ضحى عن ميت وارثه بأمره ألزمه بالتصدق بها وعدم الأكل منها، ‌وإن ‌تبرع ‌بها ‌عنه ‌له ‌الأكل ‌لأنه ‌يقع ‌على ‌ملك ‌الذابح والثواب للميت۔ (رد المحتار  على الدر المختار، ‌‌كتاب الأضحية، ج:6، ص: 326، 335)


فتویٰ نمبر : 6092/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور