بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
حالت حیض میں عمرہ کا طواف کرنا
سوال
اگر کوئی عورت حیض کی حالت میں عمرہ کا پورا طواف کرلے، پھر اپنے وطن لوٹ جائے تو اس صورت میں اس عورت پر دم واجب ہوگا یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی عورت حیض یا نفاس کی حالت میں عمرہ کا پورا طواف کرلے اور احرام سے نکل جائے تو جب تک وہ مکہ مکرمہ میں ہے،پاک ہونے کے بعد اس کا اعادہ کرے گی اور اگر پاکی کی حالت میں طواف کا اعادہ نہیں کیا اور اپنے وطن لوٹ گئی تو اس پر دم واجب ہوگا،جو حدود حرم میں ذبح کیاجائےگا۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت پر حیض کی حالت میں طواف کرنے کی وجہ سےدم واجب ہے، جس کو حدود حرم میں ذبح کرنا لازم ہے۔
"ولو طاف للعمرة كله أو أكثره أو أقله، ولو شوطا جنبا، أو حائضا، أو نفساء، أو محدثا، فعليه شاة ۔۔۔ ولو أعاده سقط عنه الدم"۔(غنيةالناسک، المطلب الرابع في ترك الواجب في طواف العمرة، ص: 276)
"إذا طاف للعمرة محدثا أو جنبا فما دام بمكة يعيد الطواف فإن رجع إلى أهله ولم يعد ففي المحدث تلزمه الشاة وفي الجنب تكفيه الشاة استحسانا هكذا في المحيط"۔(الفتاوى الهندية، كتاب المناسك، باب الجنايات، الفصل الخامس في الطواف والسعي والرمل ورمي الجمار، ج:1، ص:272)