بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
دوران سال سونا زیادہ ہونے کی صورت میں زکوۃ کا حکم
سوال
میری بیوی کے پاس آٹھ تولہ سونا ہے سال گزرنے سے چند ماہ پہلےڈھائی تولہ سونا مزید بھی اس کی ملکیت میں آگیا تو سوال یہ ہے کہ میری بیوی کس طرح زکوۃ ادا کرے گی؟ ڈھائی تولہ سونا پر علیحدہ سال گزرنا ضروری ہے یا آٹھ تولہ سونا کے ساتھ ملا کر زکوۃ ادا کرے گی؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہو اورسال کے دوران اس کی ملکیت میں مزید مال آجائے تو دونوں کو ملا کر پورے مال پر زکوۃ کی ادائیگی ضروری ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق سائل کی بیوی کے پاس جب آٹھ تولہ سونا پہلے سے تھا تو وہ صاحب نصاب تھی اور سال گزرنے سے پہلے جب وہ مزید ڈھائی تولہ سونا کی مالکہ بن گئی تو جب گزشتہ نصاب پر سال مکمل ہوجائے تو پورے ساڑھے دس تولے سونا کی زکوۃ دے گی۔ ڈھائی تولہ سونا پر علیحدہ سال گزرنا ضروری نہیں۔
"ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول من جنسه ضمه إليه وزكاه به"۔(الهداية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:209)
"ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أوّلا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك"۔(الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:180)