بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مدرس کے لیے مدرسہ کی بجلی استعمال کرنا


سوال

 اگر مدرس کا گھر مدرسے میں ہو تو کیا مدرس اس مدرسہ کی بجلی اپنے ذاتی کاموں میں استعمال کر سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  مدرسہ کا  پیسہ مہتمم کے پاس بطور امانت ہوتا ہے،جو  صرف   مدرسہ کی ضروریات اور اس  کے مصالح میں استعمال کرے گا، اس کے علاوہ وہ خود مدرسہ  کا پیسہ اور اس  کی اشیاء  کو ذاتی مفاد میں استعمال نہیں کر سکتا ،اور نہ ہی کسی مدرس کو اس کے استعمال کی اجازت دے  سکتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر کسی مدرس کا مدرسہ میں گھر ہو،اور  اس کے لیے اس گھر میں رہائش اختیار کرنا مدرسہ اور طلباء کے مفاد میں ہو،اور مدرسہ کی انتظامیہ اور مجلس شوری کی طرف سے مدرس کی لیے اس گھر میں بجلی ،گیس کے استعمال کی  اجازت دی گئی ہو تو شرعا اس میں کوئی حرج نہیں۔

 

متولى المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد.(الفتاوی الھندیة،کتاب الوقف،ج:2ص:462)

الثامنة في وقف المسجد أيجوز أن يبنى من غلته منارة قال في الخانية معزيا إلى أبي بكر البلخي إن كان ذلك من مصلحةالمسجد بأن كان أسمع لهم فلا بأس به۔(البحرالرائق،كتاب الوقف،ج:5،ص:233)


فتویٰ نمبر : 6110/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور