بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نومسلم شادی شدہ عورت کے ساتھ نکاح


سوال

ہمارے علاقے میں ایک غیر مسلم فرقہ(کیلاش) ہے ،جن کی عورتیں بعض اوقات اسلام قبول کر کے کسی مسلمان مرد کے ساتھ نکاح کرتی ہیں ،سوال یہ ہے کہ  کبھی ان میں مسلمان ہونے والی عورتیں شادی شدہ ہوتی ہیں ،تو کیا ان کا نکاح منعقد ہوگا یا نہیں ؟اور ان پر عدت گزارنا لازم یا نہیں؟

جواب

اگر بیوی مسلمان ہوجائے اور شوہر مسلمان  نہ ہو تو اگر میاں بیوی دونوں دارالاسلام میں ہوں تو ایسی صورت میں معاملہ قاضی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور قاضی شوہر پر اسلام کو پیش کرے گا، اگر وہ انکار کردے تو دونوں کے درمیان تفریق کردے گا،قاضی کی تفریق سے پہلے عورت اپنے کافر شوہر کے نکاح سے  خارج نہ ہوگی اور اس کا نکاح کسی اور مرد سے  جائز نہ ہوگا۔ اور اگر زوجین  دارالحرب میں  ہوں  یا ایسی جگہ ہوں جہاں مسلمان قاضی کے پاس معاملہ لےجاکر شوہر پر اسلام پیش کرانے کی کوئی صورت نہ ہو تو بیوی تین حیض کے بعد اپنےکافرشوہر  کے  نکاح  سے خارج ہوجائے گی یعنی اگر شوہر نے تین حیض  گزرنے تک  اسلام  قبول نہ کیا تو عورت اس کافرشوہر کے  نکاح  سے خود بخود خارج ہوجائے گی۔

صورت مسئولہ میں غیر مسلم عورت کے مسلمان ہوجانے پر، معاملہ عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں اس کے شوہر سے قبولِ اسلام کا مطالبہ ہوگا اگر شوہر اسلام قبول نہ کرے تب عدالت کے فیصلہ سنانے پر مسلمان عورت  غیر مسلم   کے نکاح سے خارج ہو جائے گی اور  عدت کے بعدوہ دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

 

(وإذا) (أسلم أحد الزوجين المجوسيين أو امرأة الكتابي عرض الإسلام على الآخر، فإن أسلم) فيها (وإلا) بأن أبى أو سكت (فرق بينهما...)۔(الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب النكاح، باب نكاح الكافر، ج:3، ص:189)

وإذا أسلمت المرأة وزوجها كافر عرض القاضي عليه الإسلام، فإن أسلم فهي امرأته، وإن أبى فرق بينهما، وكان ذلك طلاقا. (البناية شرح الهداية، كتاب النكاح، باب نكاح أهل الشرك، ج:5، ص:239)


فتویٰ نمبر : 7087/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور