بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
روزے کی حالت میں استمناء بالید
سوال
اگر کوئی شخص رمضان المبارك ميں روزے كی حالت میں استمناء بالید کرےتو کیااس سے قضا لازم ہوگی یا قضاوکفارہ دونوں لازم ہوں گے؟
جواب
استمناءبالید(مشت زنی) ایک ناجائزعمل ہے رمضان میں روزے کی حالت میں اس کی قباحت مزید زیادہ ہو جاتی ہے۔اگر روزہ دار رمضان میں مشت زنی کرے یعنی ہاتھ کے ذریعے منی کا اخراج کرے تو اس سےاس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور روزے کی قضا لازم ہوجاتی ہے،البتہ کفارہ واجب نہیں ہوتا۔
قوله: (وكذا الاستمناء بالكف) أي في كونه لا يفسد لكن هذا إذا لم ينزل أما إذا أنزل فعليه القضاء كما سيصرح به وهو المختار(ردالمحتار،كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،مطلب فی حکم الاستمناء بالکف،ج:3،ص:371)