بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
زبان پر چھالے پڑ جانے کی وجہ سے قرأت پر قادر نہ ہو نے سے نماز کا حکم
سوال
ایک شخص ہے ،اس کی زبان پر چھالے پڑ گئے ہیں،اور وہ قرأت پر قادر نہیں ،تو کیااس کی نمازبغیر قرأت کے جائز ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ شرعی احکام کی بجا آوری انسان پر بقدر استطاعت لازم ہے ،لہذا مریض جس حد تک آسانی کے ساتھ قرأت پر قادر ہو تو قرأت کےساتھ نماز ادا کرے اور اگر قرأت کرنے سے بالکل معذور ہوتوقرأت کاکوئی متبادل نہ ہونے کی وجہ سے قرأت کے ترک کرنے کی صورت میں نماز جائز رہے گی، تاہم مناسب یہ ہے کہ آیات میں فکرو تدبر سے غافل نہ ہو۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کسی کے زبان پر چھالے پڑ گئے ہیں ، جس کی وجہ سے وہ قرأت پر بالکل قادر نہیں ہے ،تو اس کی نماز بغیر قرأت کے جائز ہے ۔
ويفعل المريض في صلاته من القراءة والتسبيح والتشهد ما يفعله الصحيح وإن عجز عن ذلك كله تركه.( الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة،الباب الرابع عشر في صلاة المريض،ج:1،ص:137)
واقتصار المصنف على بيان البدل للأركان الثلاثة أعني القيام والركوع والسجود إشارة إلى أن القراءة لا بدل لها.(البحر الرائق ، كتاب الصلاة ، باب صلاة المريض :ص: 202،ج: 2)