بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
بیت الخلاء میں بات چیت کرنا
سوال
اکثر لوگ موبائل لے کربیت الخلاء جاتے ہیں ،اور اس دوران کال آ جائے کال آٹینڈ کر کے سلام اور بات بھی کرتے ہیں تو کیا بیت الخلاء میں بات چیت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
بیت الخلاء میں ستر کھلے ہونے کی حالت میں بات چیت کی ممانعت احادیث میں وارد ہوئی ہے،اس لیے بلا ضرورت بیت الخلاء میں بات کرنے کو فقہائے کرام نے مکروہ قرار دیا ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے رویات ہے کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، حضور اس وقت قضاء حاجت کر رہے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جواب نہیں دیا۔
لہٰذا بیت الخلاء یا غسل خانے میں جب ستر کھلا ہوا ہو تو بلا ضرورت باتیں نہ کی جائیں اور اگر ستر کھلا نہ ہو تب بھی غیر ضروری باتیں کرنا ادب کے خلاف ہے،البتہ کسی مجبوری کی بنا پر بات کرنے کی گنجائش ہے۔
عن ابن عمر" أن رجلا سلم على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول فلم يرد عليه".( سنن الترمذي، باب في كراهية رد السلام غير متوضئ، رقم الحديث:٩٠)
و يستحب أن لا يتكلم بكلام معه ولو دعاء لأنه في مصب الأقذار ويكره مع كشف العورة. قوله: "و يستحب أن لا يتكلم بكلام معه و لو دعاء" أي هذا إذا كان غير دعاء بل و لو دعاء أما الكلام غير الدعاء فلكراهته حال الكشف .( حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، فصل: وآداب الاغتسال، ص:١٠٥)