بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ختم القرآن کے موقع پر کھانا کھلانااور فضائل اعمال کی روایت کی توضیح


سوال

آج کل عموماً ختم القرآن کے موقع پر کھانا کھلایا جاتا ہے، جبکہ فضائل اعمال میں ایک روایت نقل ہےکہ:"عن بريدة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قرأ القُرآن يتأكّل به النَّاس جاء يوم القيامة ‌ووجهُه ‌عظم ‌ليس ‌عليه ‌لحمٌ."(جو شخص قرآن پڑھے تاکہ اس کی وجہ سے کھاوے لوگوں سے، قیامت کے دن وہ ایسی حالت میں آئے گاکہ اس کا چہرہ محض ہڈی ہوگا جس پر گوشت نہ ہوگا)۔ توسوال یہ ہے کہ جب کوئی اس طرح کھانا کھائے تو یہ اس حدیث کا مصداق ہوگا یا نہیں؟

جواب

قرآن کریم کی تلاوت اگر ایصالِ ثواب کی غرض سے کی جائے تو اس کے بعد بہ طور معاوضہ کھانا کھانا یااس پر اجرت لینا جائز نہیں ،تاہم اگر کسی جگہ اجرت کے بجائے محض اکرام اور ہدیہ کے طور پر ایصالِ ثواب کی خاطر تلاوت کرنے والوں کو کچھ کھلایا پلایا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق ہمارے عرف میں چونکہ تلاوت کرنے والوں کو محض اکرام اور ہدیہ کے طور پر کھانا کھلایا جاتا ہے، لہذا اس کے کھانے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ۔ البتہ اگر کسی جگہ باقاعدہ عقدِ اجارہ ہوتا ہو اور اجرت کے طور پر کھانا کھلایا جاتا ہو تو اس کا کھانا جائز نہیں۔

جہاں تک سوال میں مذکور روایت کا تعلق ہے تو حضرت مولانا محمد زکریا ؒ خود تشریح میں فرماتےہیں کہ:"یعنی جو لوگ قرآن شریف کو طلب دنیا کی غرض سے پڑھتے ہیں، ان کاآخرت میں کوئی حصہ نہیں۔۔۔"نیز فرماتے ہیں:"یہاں پہنچ کر میں ان حفّاظ کرام کی خدمت میں جن کا مقصود قرآن شریف کے مکتبوں سے فقط پیسہ ہی کمانا ہے، بڑے ادب سے عرض کروں گا کہ للہ اپنے منصب اور اپنی ذمہ داری کا لحاظ کیجئے۔۔۔" اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو طلب دنیا کی خاطر قرآن کی تلاوت کررہے ہوں اور ان کا مقصد بھی یہی ہو کہ قرآن کے ذریعے دنیاوی مفادات حاصل کریں۔

                 

"ولا يصح الاستئجار على القراءة وإهدائها إلى الميت لأنه لم ينقل عن أحد من الأئمة الإذن في ذلك ۔۔۔فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال فإذا لم يكن للقارىء ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر."(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الإجارۃ،ج:9،ص:77)

"(وقال الشعبي لا يشترط المعلم إلا أن يعطى شيئا فليقبله)۔۔۔۔ وقول الشعبي هذا يدل على أن أخذ الأجر بالاشتراط لا يجوز فإن اعطى من غير شرط فإنه يجوز أخذه لأنه إما هبة أو صدقة وليس بأجرة وأصحابنا الحنفية قائلون بهذا."(عمدۃ القاری، باب مایعطی فی الرقیۃ علی إحیاءالعرب بفاتحۃ الکتاب، ج:12، ص:97)


فتویٰ نمبر : 6069/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور