بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
نظر لگنے کی حقیقت اور اس کے لیے مسنون دعا کا ثبوت
سوال
نظر لگنے میں کتنی حقیقت ہے؟اور نظر بد کی یہ دعا"باسم الله اللهم أذهب حرها وبردها ووصبها، قم بإذن الله" احادیث سے ثابت ہے یا نہیں۔
جواب
واضح رہے کہ نظر لگنا حق ہے،ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نظر بد لگنا حق ہے،اور اس کے لیے یہ دعا " باسم الله اللهم أذهب حرها وبردها ووصبها، قم بإذن الله " امام نسائی کی کتاب "السنن الکبریٰ" میں عامر بن ربیعہ کی روایت سے منقول ہے،وہ فرماتے ہیں کہ:میں اور سہل بن حنیف غسل کے ارادے سے کسی آڑ کی تلاش میں نکلے تو ہمیں ایک آڑ میں تالاب مل گیا، لیکن ہم دونوں نے شرم و حیاء کی وجہ سے ایک دوسرے کے سامنے کپڑے نہیں اتارے، پھر سہل مجھ سے ذرا پردے میں ہوگئے، جب انہیں محسوس ہوا کہ پردے میں چلے گئے ہیں تو انہوں نے اون کا جو جبہ پہنا ہوا تھا وہ اتار دیا، جب میری نظر سہل پر پڑی تو مجھے ان کی جسامت اچھی لگی تو ان کو میری نظر لگ گئی، اس کے بعد ان کو چکر آیا اور وہ گر گئے، میں نے ان کو آواز دی لیکن ان کی طرف سے جواب نہیں آیا تو میں جلدی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں سارا ماجرا بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے ساتھ چلو۔" جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اوپر اٹھایا اور تالاب میں داخل ہو گئے، گویا کہ میں ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہل کے سینے پر ہاتھ رکھا اور دعا کی: " بِاسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ أذْهِبْ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا"۔ (اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں، اے اللہ! اس کے گرم اور سرد کو، اور اس کی تکلیف کو دور کردے) اور پھر فرمایا: " قُمْ بِإِذْنِ اللّٰهِ" (اللہ کے حکم سے کھڑے ہوجاؤ) تو سہل اٹھ کھڑے ہوئے۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی اپنے جان و مال یا اپنے بھائی کی کسی چیز کو دیکھے اور وہ چیز اچھی لگے تو برکت کی دعا مانگے، کیونکہ نظر کا لگ جانا برحق ہے۔
عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن أبيه، قال: خرجت أنا وسهل بن حنيف، نلتمس الخمر، فأصبنا غديرا خمرا، فكان أحدنا يستحي أن يتجرد وأحد يراه، فاستتر حتى إذا رأى أن قد فعل ، نزع جبة صوف عليه، فنظرت إليه فأعجبني خلقه فأصبته بعين، فأخذته قعقعة، فدعوته فلم يجبني، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته فقال: «قوموا بنا» فرفع عن ساقيه حتى خاض إليه الماء، فكأني أنظر إلى وضح ساقي النبي صلى الله عليه وسلم، فضرب صدره وقال: «باسم الله، اللهم أذهب حرها وبردها ووصبها، قم بإذن الله» فقام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا رأى أحدكم من نفسه أو ماله أو أخيه شيئا يعجبه فليدع بالبركة، فإن العين حق»(سنن الكبرى للنسائي،باب ما يقرأء على من أصيب بعين،حديث نمبر:10805)
عن ابي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" العين حق ونهى عن الوشم ۔(صحيح البخاري:باب العين حق،حديث نمبر:5740)