بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
اشراق کی نماز کے لیے اعلان کرنا
سوال
ہماری مسجد میں اشراق کی نماز کے لیے اعلان ہوتا ہےکیونکہ گھروں میں عورتیں ہوتی ہیں ان کو اشراق کے وقت کا پتہ نہیں چلتا ،تو کیایہ اعلان کرنا صحیح ہے یا نہیں؟
جواب
وا ضح رہے کہ حدیث میں نماز اشراق کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ اشراق کی نماز ایک مستحب عمل ہے، لیکن اس کوکسی بھی طرح خاص کرنا یا لوگوں پر اس کو لازم کرنا جائز نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر مسجد میں نماز اشراق کے لیے اعلان ہوتا ہو، تو اگر یہ محض ترغیب کے طور پر ہو اور اشراق کا وقت داخل ہونے کے لیے بطور اطلاع اعلان کیا جائے تو گنجائش ہے، مگر اس کو باقاعدہ معمول بنالینا جس سے اس بات کا خوف و خدشہ ہو کہ لوگ اس نماز کو لازم سمجھیں گے، تو یہ دین میں بدعت کے مترادف ہوگا، لہذا ایسے فعل سے اجتناب کرنا چاہیے۔
"(و) ندب (أربع فصاعدا في الضحى) على الصحيح من بعد الطلوع إلى الزوال و وقتها المختار بعد ربع النهار"۔ (الدر المختار مع رد المحتار، باب الوتر و النوافل، مطلب في سنة الضحى، ج:2، ص:466)
"من أصر على أمر مندوب وجعله عزما ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر"۔(مرقاة المفاتيح، ج:4، ص:33)
"فالبدعة إذن عبارة عن:"طريقة في الدين مخترعة، تضاهي الشرعية، يقصد بالسلوك عليها المبالغة في التعبد لله سبحانه"۔(الاعتصام، مقدمة المصنف لكتابه، الباب الأول في تعريف البدع وبيان معناها، ج:1، ص:47)