بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مقتدی کا امام سے پہلے رکوع میں جانا


سوال

مقتدی  کے  امام سے پہلے رکوع میں جانے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے یا نہیں ؟

جواب

اقتدا کی صورت میں امام کی مکمل متابعت ضروری ہے ۔ عدم متابعت کی وجہ سے بعض  دفع مقتدی کی نماز  فاسد ہو جاتی ہے مثلاً :  مقتدی امام سے پہلے سجدہ یا رکوع  میں گیاا ور  امام  ابھی تک سجدہ یا رکوع میں پہنچا  نہ ہو کہ مقتدی سجدہ یا رکوع سے فارغ ہو جائے ۔احادیث مبارکہ میں عدم  اتباع کی  صور ت میں یہ  وعید آئی ہے کہ اندیشہ ہے کہ  اللہ  تعالی اس کا سر گدھے  کی طرح کر دے ۔

صورت مسئولہ میں اگر مقتدی امام سے پہلے رکوع میں چلا جائےاور امام کے رکوع میں پہنچنے سے پہلے  وہ رکوع سے اُٹھ جائے تو اس صورت میں اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ،تاہم اگر مقتدی ابھی تک رکوع سے فارغ نہ ہوا ہو کہ امام رکوع میں چلا جائے تو اس کی   نماز درست ہو جائے گی ،البتہ مقتدی  کو  اس  فعل مکروہ  کے ارتکاب کا گناہ ہو گا  ۔ لہذا ایسا کرنے سے اجتناب ضروری ہے ۔

 

عن محمد بن زياد: سمعت أبا هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أما يخشى أحدكم، أو: لا يخشى أحدكم، إذا رفع رأسه قبل الإمام، أن يجعل الله ‌رأسه ‌رأس ‌حمار، ‌أو يجعل الله صورته صورة حمار.» (صحيح البخاري، كتاب الصلوة،باب إثم من رفع رأسه قبل الإمام،ج:١،ص:٩٦)

‌ويكره ‌للمأموم ‌أن ‌يسبق الإمام بالركوع والسجود وأن يرفع رأسه فيهما قبل الإمام.(الفتاوى الهندية، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها ، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره،ج:١،ص:١٠٧)


فتویٰ نمبر : 10304/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور