بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

باکسنگ اور فری اسٹائل فائٹ کھیلنے کا حکم


سوال

باکسنگ مکا بازی اور فری اسٹائل فائٹ کھیل کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے ، کیا یہ کھیل کھیلنا جائز  ہے یا نہیں ؟

جواب

موجودہ زمانہ میں باکسنگ مُکّا بازی اور فری اسٹائل فائٹنگ کے جو مقابلے منعقد ہوتے ہیں ،چوں کہ ان مقابلوں میں مدمقابل کو سخت  سے سخت  تکلیف اور جسمانی اذیت پہنچانے کو کھیل کاحصہ اور جائز سمجھاجاتاہے،اور شدید نقصان کی صورت میں  بھی مارنے والے  کو موردالزام نہیں ٹھہرایاجاتا ،جب کہ کبھی کبھار ان مقابلوں اورکھیلوں میں حصے لینے والے جسمانی اعضاء سے بھی  محروم  ہو جاتے ہیں۔ بسااوقات موت سے بھی دوچارہوتے ہیں ۔نیز اس طرح کے کھیلوں میں خاص طور پر چہرے کو نشانہ بنایا جاتا ہے ، جب کہ ا  حا دیث مبارکہ میں   اس سے ممانعت آئی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے :"جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے سے اجتناب کرے "۔  اس قسم کےکھیلوں میں حصہ  لینا خود کو ہلاکت اور نقصان میں ڈالنے کے مترادف ہوتا ہے، نیز اس میں دیگر مفاسد بھی پائے جاتے ہیں، مثلاً: غیرشرعی لباس پہننا وغیرہ۔ لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔

 

 قال الله تعالى:﴿ وَلاَ تُلْقُوْا بِأیْدِیْکُمْ الیٰ التَّھْلُکَةِ ﴾.(البقرة:١٩٥)

عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا قاتل احدكم اخاه، فليجتنب الوجه، فإن الله خلق آدم على صورته.( صحيح مسلم،كتاب البر والصلة والآداب، باب النهي عن ضرب الوجه، رقم الحديث: 6655)

 


فتویٰ نمبر : 6113/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور