بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کمیٹی کی شرعی حیثیت


سوال

ہم نے خیبر کمیٹی پروگرام کے نام سے کمیٹی شروع کی ہے، جس میں سب لوگ 5/ 5 ہزار روپے یا اس سے زیادہ یا کم روپے جمع کرتے ہیں اس میں مختلف گروپ ہیں ، تمام گروپ ممبرز کے پیسے جمع کرنے کی ترتیب برابر ہے مثلا اگر 5 ہزار والا ہے تو سب  5 ہزار جمع کرتے ہیں اور اگر 10 ہزار والا ہے تو سب   10 ہزار جمع کرتے ہیں مہینے میں دو بار قراندازی ہوگی، قراندازی کے بعد کل جمع شدہ رقم ایک شخص کو ملتی ہے جس کا نام قراندازی میں نکل آئے، اس کے لئے ہماری کچھ شرائط ہیں اس کے بارے میں مسئلہ پوچھنا تھا (1) پہلے مہینے کی دونوں کمیٹیاں بغیر قراندازی چئیرمین کی ہوں گی اور چئیرمین خود بھی اس کمیٹی میں بطور ممبرشامل ہےیعنی یہ رقم اضافی نہیں ہے ( 2)جو ممبرز کمیٹی چھوڑنا چاہے تو اس کو رقم ایک مہینے کے بعد ملے گی اور یہ رقم چئیرمین اپنی طرف سے نہیں دے گا بلکہ وہ تمام ممبرز اس رقم کے ادا کرنے کے پابند ہوں گے جن کی قراندازی میں کمیٹی نکل چکی ہے، اب اس میں ہم اضافہ کرنا چاہتے ہیں ایک مہینے میں رقم واپسی کے بجائے  ہم کمیٹی کے اختتام پر کرنا چاہتے  ہیں    کیو نکہ اکثر ممبرز  کہتے ہیں  کہ ہم ایک مہینے  میں رقم واپس نہیں  کر سکتے (3)کوئی بھی ممبرز قراندازی میں نام نکلنے کے بعد بقایا اقساط سے مستثنٰی نہیں بلکہ سب کو تمام اقساط ادا کرنی ہوں گی(4) قسط شارٹ ہونے کی صورت میں قراندازی میں نام شامل نہیں کیا جائے گا (5)مسلسل تین قسطیں جمع نہ کرنے والے کا نام کمیٹی سے نکال دیا جائے گا اور اسے جمع شدہ رقم   کمیٹی ختم ہونے  کے بعد مل جائے گی ،تو کیا کمیٹی  کا مندرجہ بلا  ترتیب  شریعت کی رو سے درست ہے ؟نیز کیا کمیٹی کا چئیرمین ان سارےانتظامات کے بدلے تمام کمیٹی ممبرز سے کچھ رقم لے سکتا ہے یا نہیں ؟مثال کے طور پر ہمارے آفس کا خرچہ اس کے لئے مستقل ایک آدمی کا وقت نکالنا، رجسٹر ٹوکن موبائل پیکج وغیرہ بہت سا خرچہ ہوتا ہے  جو کہ چئیرمین کی جیب سے ہوتا ہے ، تجاویز ہر ممبرز سے ایک اضافی قسط یا پرسنٹیج کے لحاظ سے رقم مقرر کرنا، رہنمائی فرمائیں۔

جواب

کمیٹی کا ذمہ دار شخص باقی  ار کان  کی طرح قرعہ  اندازی کے ذریعے ایک قسط  لینے کا حق دار ہے ، تا ہم کمیٹی  کے  شرکا  کا پہلی  قسط  بغیر قرعہ  اندازی کے  ذمہ  دار کو  دینا اس کے  ساتھ  تبرع  اور احسان   ہے۔ اپنی قسط  کے علاوہ چونکہ وہ کچھ نہ کچھ وقت نکال کرشرکا سے قسط اکٹھا کر کے محفوط  رکھتا ہے اور پھر ہر ماہ قرعہ اندازی کا   اہتمام کرتا ہے، اسی طرح آفس کا خرچہ اور  اس کے لئے مستقل وقت نکالنا، رجسٹر ٹوکن موبائل پیکج وغیرہ  کا خرچہ   ہونے کی  وجہ سے  وہ اس خدمت کےعوض اجرت  لے سکتا   ہے کہ تمام شرکاء آپس میں رضامندی  کے ساتھ ایک متعین  رقم اس خدمت کے عوض دے  سکتے ہیں ،اسی  طرح جو شخص کمیٹی کے دوران نکلنا چاہے تو اس کی جمع شدہ  رقم اس کو  آخر میں  دینے کی  شرط  کی  بھی گنجائش ہے،لیکن بہتر یہ ہے کہ نکلنے کے وقت اس کو رقم واپس  کر دی جائے۔

 

 قال الله تعالى:﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾(المائدة:2) 

 الإجارة نوعان:  نوع يرد على منافع الأعيان كاستئجار الدور والأراضي ۔۔۔ ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال۔(الفتاوی الهندية،كتاب الإجارة،الباب الأول في بيان تفسيرالإجارة وأركانها،ج:4،ص:411)

وإنما ‌يجوز ‌استعمال ‌القرعة عندنا فيما يجوز الفعل فيه بغير القرعة كما في القسمة. فإن للقاضي أن يعين نصيب كل واحد منهم بغير قرعة فإنما يقرع تطييبا لقلوبهم، ونفيا لتهمة الميل عن نفسه وبهذا الطريق كان يقرع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين نسائه إذا أراد سفرا؛ لأن له أن يسافر بمن شاء منهن بغير قرعة إذ لا حق للمرأة في القسم في حال سفر الزوج، وكذلك يونس صلوات الله عليه عرف أنه هو المقصود، وكان له أن يلقي نفسه في الماء من غير إقراع، ولكنه أقرع كي لا ينسب إلى ما لا يليق بالأنبياء، وكذلك زكريا عليه السلام كان أحق بضم مريم إلى نفسه؛ لأن خالتها كانت تحته ولكنه أقرع تطييبا لقلوب الأحبار۔(المبسوط للسرخسى، باب لوجوه من العتق،ج:7،ص:76)

أن ‌كل ‌قرض ‌جر منفعة فهو ربا، وتأويل هذا عندنا أن تكون المنفعة موجبة بعقد القرض مشروطة فيه، وإن كانت غير مشروطة فيه فاستقرض غلة فقضاه صحاحا من غير أن يشترط عليه جاز۔(تبيين الحقائق،فصل في البيع،ج:6،ص:39)


فتویٰ نمبر : 6102/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور