بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زیر ناف اور بغل کے بالوں کو بغیر عذر تاخیر سے کاٹنے والے امام کی اقتدا


سوال

اگر کوئی شخص قصداً ز یر ناف   اور بغل کے بالوں کو چالیس دنوں سے زیادہ تک نہیں  کاٹتا تو کیا اس آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے ؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے افضل یہ ہے کہ زیر ناف اور بغل کے بالوں کو ہر ہفتہ کا ٹاجائے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو دو  ہفتوں کے بعد  کا ٹا جائے اور اگر اس پر بھی عمل نہ ہو سکے تو چالیس دن کے بعد ضرور کاٹا جائے، اس لئے کہ چالیس دنوں کے بعد ان بالوں کے نہ کاٹنے والا مستحق وعید ہے ، تاہم اگر اس  میں سستی کرنے والا نماز پڑھائے تو اس کی اقتداء میں نماز درست ہے ۔

 

الأفضل أن يقلم أظفاره ويحفي شاربه ويحلق عانته وينظف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة فإن لم يفعل ففي كل خمسة عشر يوما ولا يعذر في تركه وراء الأربعين فالأسبوع هو الأفضل والخمسة عشر الأوسط والأربعون الأبعد ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد . (الفتاوى الهندية، الباب التاسع عشر في الحنان والخصاء ... الخ : ج:5،ص:357)


فتویٰ نمبر : 10291/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور