بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
تعلیق طلاق سے رجوع
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہاکہ اگر تم اپنی ماں کے گھر چلی گئی تو تم مجھ پرطلاق ہوگی ،اب وہ شخص اپنی بات سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کا رجوع کرنا درست ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اگر طلاق کو کسی کام کے ساتھ معلق کیا جائے تو متعلقہ شرط کے موجودہونے کی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی،اور شوہر کا طلاق معلق کرنے کے بعد پھر اس تعلیق طلاق سے رجوع معتبر نہیں ہوتا۔
صورت مسئولہ کےمطابق جو شخص اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے کہ" اگر آپ اپنی ماں کے گھر چلی گئی تو تم مجھ پر طلاق ہوگی ''تو اس کے بعد بیوی ماں کے گھر جائےگی تو ایک طلاق واقع ہوجائےگی۔اس کے بعد عدت ختم ہونے تک رجوع کرنے کاشوہر کے پاس حق ہوگا البتہ تعلیق طلاق سے رجوع ممکن نہیں۔
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:488)
ولو قال لها إذا دخلت الدار أو إذا كلمت فلانا أو صليت الظهر أو إذا جاء رأس الشهر فأنت طالق اثنتين، ثم أقرت بالرق، ثم وجد الشرط طلقت اثنتين وملك الزوج رجعتها؛ لأن الرجوع عن التعليق لا يصح فلا يمكنه التدارك وإنما علق بشرط الرجعة فلو حرمت حرمة غليظة يتضرر بقولها. (الفتاوى الهندية،الباب السادس عشر في الإقرار بالنكاح،ج:4،ص:209)