بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جامعہ کے فتویٰ میں قفیز الطحان والی روایت پر اعتراض اور اس کا جواب


سوال

 جامعہ کےایک فتوے بعنوان"قفیز الطحان کی جنس کے معاملات میں عرف کی وجہ سے جواز کا قول"میں بندے کو کچھ تردّد اورشبہے کا ازالہ کرنا مقصود ہےاور وہ یہ کہ جواب میں قفیزالطحان والی روایت کے متعلق کچھ یوں لکھا ہے کہ:

"قفیز الطحان والی روایت کی سندمیں محدثین نے کلام کیا ہے،چنانچہ ابن حجر ؒنے اس حدیث کومنكرقرار دیا ہے اور فرماتے ہیں کہ:"هذامنكر،وراويه لايعرف"(لسان المیزان،ج:6، ص:198)،اسی طرح الشرح الکبیر(ج:5، ص:194)میں مذکور ہے کہ:"وهذا الحديث لا نعرفه ولم تثبت صحته" یعنی یہ حدیث پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔تو اس کی سند کے متکلم فیہ ہونے کی وجہ سے اس کا رسول اللہﷺ سے منقول ہونا بھی مشکوک ہے،اسی طرح بعد میں لکھاہے کہ:"قفیز الطحان والی روایت معلول اور متکلم فیہ ہے"۔

اب اس روایت کی سند میں ایک راوی "ہشام" اگرچہ ابن حجر وغیرہ کے نزدیک متکلّم فیہ ہے لیکن اعلاءالسنن میں اس کو ثقات میں شمار کیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ہشام کو بعض نے ثقات اور بعض نے متکلّم فیہ قرار دیا ہے، اور جب ایک راوی کے بارے میں جرح اور تعدیل باہم متعارض ہواور دونوں مبہم ہو تو تعدیل کو مقدم کیا جائے گا، اسی طرح اگر جرح مبہم ہواور تعدیل مفسر ہو تو بھی تعدیل کو مقدّم کیا جائے گا، اس لیے تعدیل کو مقدّم کرنا چاہیے، دوسرا یہ کہ اگر کسی راوی کےمتعلق جرح اور تعدیل دونوں موجود ہوتو دونوں کو نقل کرنا چاہیے، فقط جرح کو نقل کرکے تعدیل کو چھوڑنا درست نہیں، تیسرا یہ کہ یہ حدیث مبارکہ اگرچہ ہشام والے سند سے متکلّم فیہ ہے لیکن اس حدیث کو اورسند کے ساتھ بھی نقل کیا گیا ہےجس میں کسی کا کلام نہیں، لہذا فقط متکلّم فیہ راوی والے سند کی وجہ سے حدیث مبارکہ کو مشکوک قرار دینا درست نہیں۔

جواب

واضح رہے کہ سوال میں جس فتویٰ کا حوالہ دیا گیا ہےاس میں  قفیز الطحان والی روایت کی پوری تحقیق مقصود نہ تھی بلکہ ضمنی طور پر صرف یہ بتانا مقصودتھاکہ یہ روایت متکلم فیہ ہونےکی وجہ سےاس معیار کی قطعی الثبوت روایت نہیں کہ اس سے کوئی حکم قطعیت کے ساتھ ثابت ہوسکے۔مذکورہ فتویٰ میں اس حدیث کومتکلم فیہ کہا گیا ہے،اس کو موضوعی قرارنہیں دیا گیا ہے، اور ظاہر ہے کہ علامہ ابن حجر اور ابن قدامہ المقدسی جیسے محدثین کے کلام کے بعد اس کو"متکلم فیہ" کہناکوئی غلط نہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔


فتویٰ نمبر : 6068/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور