بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دائیں جانب سے کام شروع کرنےکے متعلق حدیث


سوال

بچپن سے ایک حدیث سنتے آرہے ہیں کہ جوتا پہنے اور پاکی حاصل کرنے میں دائیں جانب سے شروع کرنا  پسندیدہ عمل ہے، اسی طرح ایک حدیث میں یہ ہے کہ اگر کوئی چیز تقسیم کر ےتو دائیں جانب سے شروع کرے،تو  کیا  اس قسم کی روایتیں احادیث کی کتب میں موجود ہیں یا نہیں ؟

جواب

ہر اچھے کام کو دائیں طرف سے شروع کرنا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ کی سنت اور پسندیدہ عمل ہے۔ صحیح بخاری میں "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  کی روایت ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  دائیں طرف  سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔جوتا پہننے ، کنگھی کرنے،  پاکی حاصل کرنے میں اور سارے  ہی احوال میں آپ ﷺ کو دائیں طرف سے شروع کرنا پسند تھا"

اسی طرح کوئی چیز تقسیم کرتے وقت دائیں طرف سے شروع کرنا  پسندیدہ اور مسنون عمل ہے، جیسا کہ سنن أبی داؤد میں "حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ کے دائیں جانب  ایک دیہاتی اور بائیں جانب ابوبکررضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا پھر دیہاتی کو (پیالہ) دیا اور فرمایاکہ  دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے پھر وہ جو اس کے دائیں  جانب ہو"

 

"عن عائشة، قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يعجبه التيمن في تنعله وترجله وطهوره وفي شأنه كله"۔(الصحيح للبخاري، كتاب الوضوء، باب التيمن في الوضوء والغسل، رقم الحديث:168، ج:1،ص:45)

"عن أنس بن مالك، أن النبي صلى الله عليه وسلم، أتي بلبن قد شيب بماء، وعن يمينه أعرابي، وعن يساره أبو بكر، فشرب، ثم أعطى الأعرابي، وقال: الأيمن فالأيمن"۔(سنن أبي داؤد، كتاب الأشربة، باب في الساقي متى يشرب؟، رقم الحديث:3726، ج:2، ص:558)


فتویٰ نمبر : 6078/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور