بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ایک مجلس میں متعدد بارآیت سجدہ تلاوت کرنا


سوال

ایک قاری صاحب نے حفظ کے لیے چار طلبا  کا گروپ بنایا، قاری صاحب نے سجدہ تلاوت پڑھی، پھر چاروں نے وہی آیت دہرائی، تو قاری صاحب اور ان طلبا پر کتنی مرتبہ سجدہ تلاوت کرنا لازم ہے؟

جواب

اگر مجلس ایک ہو تو آیت سجدہ کے تکرار سے صرف ایک سجدہ واجب ہوگا، اگرچہ ایک دفعہ خود پڑھے اور دوسری دفعہ کسی اور سے سنے۔ لیکن مجلس یا آیت بدل جانے سے  سجدہ بھی مکرر واجب ہوگا۔ نیز نابالغ بچوں پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے، خواہ وہ خود تلاوت کریں یا کسی اور سے آیت سجدہ سن لیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب قاری صاحب نے ایک بار سجدہ تلاوت پڑھی اور طلبہ نے بھی وہی آیت دہرائی، تو چونکہ یہ سب ایک مجلس میں ہیں، اور آیت بھی ایک پڑھی گئی اس لیے سب  بالغ افراد پر سجدہ تلاوت صرف ایک مرتبہ واجب ہوگا۔

 

‌وأشار ‌إلى ‌أنه ‌متى ‌اتحدت الآية والمجلس لا يتكرر الوجوب وإن اجتمع التلاوة والسماع ولو من جماعة۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب سجود التلاوة، ج:2، ص:115)

(على من كان) متعلق بيجب (أهلا لوجوب الصلاة) لأنها من أجزائها (أداء) كالأصم إذا تلا (أو قضاء) كالجنب والسكران والنائم (فلا تجب على كافر وصبي ومجنون وحائض ونفساء قرءوا أو سمعوا) لأنهم ليسوا أهلا لها (وتجب بتلاوتهم) يعني المذكورين (خلا المجنون المطبق)۔ (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب سجود التلاوة، ج:2، ص:108)


فتویٰ نمبر : 10268/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور