بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جماعت فوت ہوجانے کے خوف سے وضو کی سنتیں چھوڑنا


سوال

اگر جماعت کھڑی ہو،اوروضو کی سنتیں ادا کرنے کی صورت میں جماعت فوت ہوجانے کا خوف ہو،تو سنتوں کوچھوڑ کروضو کے فرائض پر اکتفا کرنا کیسا ہے،جبکہ میرا دل سنتوں کو چھوڑنےپر مطمئن نہیں رہتا ؟

جواب

واضح رہے کہ جماعت سے نماز پڑھنا ایسی سنتِ مؤکدہ ہے جو واجب کے قریب ہے ۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کبھی وضو کی سنتیں ادا کرنے کی صورت میں جماعت کی نماز فوت ہوجانے کا خوف ہو، تو وضو کے فرائض پر اکتفا کرنے کی گنجائش ہے، چونکہ ایسی صورت میں  اعلی اور فضیلت والی  چیز یعنی جماعت کو  پانے کی کوشش ہوتی ہے، اس لیے اس سے پریشان نہیں ہو نا چاہئے۔تاہم بہتر یہ ہے کہ جماعت سے اتنی دیر قبل وضو کیا جائے کہ وضو کے سنن ومستحبات بھی ادا ہوں ، اور جماعت بھی پا سکے ۔

 

"وهوأن صلاة الجماعة واجبة على الراجح في المذهب، أو سنة مؤكدة في حكم الواجب۔"(رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب واجبات الصلاة، ج:1 ص:457)

"أنه ليس له ترك الجماعة؛ لأنها من الشعائر۔"(رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب واجبات الصلاة، ج:2، ص:15)       

والحاصل أنه إذا لم يمكن الجمع بين الفضيلتين ارتكب الأرجح، وفضيلة الفرض بجماعة أعظم من فضيلة ركعتي الفجر."(فتح القدير، كتاب الصلوٰة، ج:1، ص:175)


فتویٰ نمبر : 10266/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور