بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مقتدی كا امام سے ناراض ہونے كے باوجود اس كےپيچهے نماز پڑهنا


سوال

اگر کسی مقتدی کا امام کے ساتھ اختلاف ہو اور اس کا دل نہ چاہتا ہو کہ  وہ اس امام کے پیچھے نماز پڑھے لیکن پھر بھی وہ اس کے پیچھے نمازپڑھتا ہے تو اس کی نماز ادا ہوگی یا نہیں؟ اگرادا نہیں ہوتی تو جتنی نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہیں ان کااعادہ لازم ہوگا ہے یا  نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر مقتدی کا امام کے ساتھ اختلاف کسی دینی معاملے کی وجہ سے ہو یعنی امام فاسق ہو یا ا س کا عقیدہ درست نہ ہو یا وہ سنتوں کی رعایت نہ رکھتا ہو تو ایسے امام کی امامت مکروہ ہے، لیکن اگر امام سے اختلاف کسی دنیوی معاملہ  کی وجہ سے  ہو تو ایسی ناراضگی کا کوئی اعتبار نہیں اور اس امام کی امامت بالکل درست ہے، اس صورت میں مقتدی  امام سے ناراض ہونے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔ تاہم  دونوں صورتوں میں ناراض ہونے کے باوجود اس امام کے پیچھے نمازیں ادا کرنے سے ادا ہوجائیں  گی اور ان نمازوں کا اعادہ  مقتدی پر لازم نہیں ۔

 

(وإمام قوم) أي: الإمامة الكبرى، أو إمامة الصلاة (وهم له) : وفي نسخة: لها، أي الإمامة (كارهون) أي: لمعنى مذموم في الشرع، وإن كرهوا لخلاف ذلك، فالعيب عليهم ولا كراهة، قال ابن الملك: أي كارهون لبدعته أو فسقه أو جهله، أما إذا كان بينه وبينهم كراهة وعداوة بسبب أمر دنيوي، فلا يكون له هذا الحكم.( مرقاة المفاتيح، باب الامامة، ج:3 ص:865)

رجل أم قوماً وهم له كارهون إن كانت الكراهة لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة يكره له ذلك، وإن كان هو أحق بالإمامة لا يكره. هكذا في المحيط.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، باب  ما يمنع صحة الاقتداء وما يمنع، ج:1، ص:87)


فتویٰ نمبر : 10273/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور