بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
"محمد" نام تبدیل کرنا
سوال
ایک بچہ پیدائش کے وقت موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ ڈاکٹروں نے اس کا نام محمد رکھنے کا مشورہ دیا اور یہی نام رکھا گیا۔ اب وہ بچہ تندرست و صحت مند ہے اور پانچ سال کا ہے ،گھر والے اس کا نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو کیا اس نام کو تبدیل کرنا جائز ہے یا یہی نام رکھنا لازمی ہے؟
جواب
واضح رہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد ایسا اچھا اور بامعنی نام رکھنا نہایت اہم ہے،جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے پسند کیا ہو یا نبی ﷺ نے ذکر فرمایا ہو ،یا مسلمانوں میں رائج بامعنی نام ہو،اس کے علاوہ جو نام ایسا ہو کہ آپ ﷺ یا حضرات صحابہ یا علماءو صلحا امت نے اسے استعمال نہ کیا ہو اور نہ ہی اچھاا ور بامعنی نام ہو تو اس سے احتراز کرنا چاہیئے۔
صورت مسئولہ کے مطابق محمد نام آپ ﷺ کے ذاتی ناموں میں سے ہے، جو بہت مبارک نام ہے ،لہذا اگر کسی بچے کے لیے یہ نام تجویز کر دیا گیا ہے تو اس نام کو تبدیل کرنا مناسب نہیں ،البتہ اس کے ساتھ دوسرا نام جوڑا جا سکتا ہے۔
عن أنس رضي الله عنه قال:كان النبي صلى الله عليه وسلم في السوق، فقال رجل: يا أبا القاسم، فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: "سموا باسمي، ولا تكنوا بكنيتي".(صحیح البخاری،باب: كنية النبي صلى الله عليه وسلم،ج:3ص:1301)
عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم۔ ( سنن أبي داؤد،كتاب الأدب،باب في تغيير الأسماء ج2،ص320)
(قوله أحب الأسماء إلخ) هذا لفظ حديث رواه مسلم وأبو داود والترمذي وغيرهم عن ابن عمر مرفوعا. قال المناوي: وعبد الله أفضل مطلقا حتى من عبد الرحمن، وأفضلها بعدهما محمد، ثم أحمد ثم إبراهيم۔(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الحظر والاباحة،ج:6ص:417)