بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رخصتی کے موقع پر قرآن کے سایہ سے دلہن کو گزارنا اور بکرا ذبح کرنا


سوال

 ہمارے ہاں   شادی کے موقع  پر یہ رواج ہے کہ  رخصتی کے وقت دلہن کو قرآن  کے سایہ سے گزارتے ہیں  تو  کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اور  دوسری رسم  یہ ہے کہ  رخصتی کے وقت دلہن کی گاڑی کے آگے  بکرا ذبح کیا جاتا ہے  تو کیا  یہ رسومات کرنا شریعت کے مخالف تو نہیں، نیز اس  بکرے کے گوشت کے استعمال کا کیا حکم ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ شادی بیاہ میں کی جانے والی رسومات جن کا شریعت میں کوئی  ثبوت نہیں ،اگر ان کو ثواب سمجھ کر کیا جائے تو بدعت کے زمرے میں آکر ان پر عمل کرنا نا جائز  رہے گا،لیکن محض رسم کے درجے میں رکھ کر عمل کیا جائے اور شریعت کے اصولوں کی مخالفت لازم نہ آتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق  رخصتی کے موقع پر قرآن کے سایہ سے دلہن کو گزارنے  کا شرعا کوئی ثبوت نہیں ،محض ایک رسم ہے اگر ثواب سمجھ کر  قرآن کے سایہ سے دلہن کو گزارا جائے تو بدعت کے زمرے میں داخل ہو گا ،لہذا اجتناب ضروری ہے۔اور   رخصتی کے وقت دلہن کی گاڑی کے آگے بکرا ذبح کرنا  محض علاقائی رسم کے طور پر ہو ،اور اس سے غیر اللہ کی تعظیم و تقرب مقصود نہ ہو ،اوراس موقع پر بکرا ذبح کرنا  کسی غلط عقیدہ پر مبنی نہ ہو بلکہ  خوشی کی خاطر  یا صرف ایک رسم کے طور پر ہو تو اس کا گوشت کھانا جائز ہے،البتہ  یہ ایک لایعنی رسم ہے جس کو ترک کرنا چاہیے ،نیز جس علاقہ میں یہ رسومات اس حد تک بڑھ جائیں کہ اس کے نہ  کرنے میں    بدشگونی کا تصور ہو تو  ایسی صورت میں ان رسومات کے ناجائز ہونے میں کوئی شک نہیں لہذا ان کا ترک کرنا واجب ہو گا۔

 

عن عائشة رضي الله عنه قالت :قال رسول الله ﷺ من أحدث فی أمرنا هذا ما لیس فیه فهو رد.(صحیح البخاری،الصلح اذا اصطلحوا علی صلح الجور فھو رد،ج:1ص:371)

قلت اللھو في النكاح وإن كان لغوا:لكنه يغمض عنه بخلاف الرسوم في الموت.(فیض الباری،کتاب النکاح،ج:4ص:297)

( ذبح لقدوم الأمير ) ونحوه كواحد من العظماء ( يحرم ) لأنه أهل به لغير الله ( ولو ) وصلية (ذكر اسم الله تعالى ولو ) ذبح (للضيف لا ) يحرم.(الدرالمختار، کتاب الذبائح،ج9ص449)


فتویٰ نمبر : 6043/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور